پاکستان نے دوحہ مذاکرات کے بعد افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بحال کر دی

(کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان نے افغانستان کے ساتھ دوحہ، قطر میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں فوری جنگ بندی کے اتفاق کے بعد افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بحال کر دی۔

یہ تجارتی راستہ 13 اکتوبر 2025 کو پاک۔افغان سرحد پر پرتشدد واقعات اور سیکیورٹی تناؤ کے باعث معطل کر دیا گیا تھا۔ بدھ کے روز ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانزٹ ٹریڈ نے ایک جامع حکم نامہ جاری کیا، جس میں کارگو کی مکمل بحالی کا طریقہ کار واضح کیا گیا۔ حکام کے مطابق، چمن کراسنگ پوائنٹ سے ٹرانزٹ آپریشنز دوبارہ شروع کر دیے گئے ہیں۔

حکم نامے کے مطابق، ٹرانزٹ ٹریڈ مرحلہ وار بنیادوں پر “فرسٹ اِن، فرسٹ آؤٹ” پالیسی کے تحت بحال کی جا رہی ہے تاکہ پھنسے ہوئے کنسائنمنٹس کو ترجیحی بنیادوں پر کلیئر کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق تقریباً 300 گاڑیاں مختلف مقامات پر پھنس گئی تھیں، جنہیں تین مراحل میں کلیئر کیا جائے گا۔
پہلے مرحلے میں ان 9 گاڑیوں کو کلیئر کیا جائے گا جو فرینڈشپ گیٹ سے واپس بھیجی گئی تھیں۔ ہر ٹرک کا وزن دوبارہ کیا جائے گا، اسکیننگ ہوگی اور کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں مکمل جسمانی جانچ کی جائے گی۔ دوسرے مرحلے میں چمن کے ٹرمینل یارڈ سے واپس بھیجی گئی 74 گاڑیوں کی جانچ ہوگی، جب کہ تیسرے مرحلے میں ہالٹنگ یارڈ میں کھڑی 217 گاڑیوں کو کلیئر کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق افغانستان واپس جانے والی تمام گاڑیوں کی تصاویر لے کر ریکارڈ کے لیے محفوظ کی جائیں گی تاکہ مانیٹرنگ اور دستاویزی کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرانزٹ ٹریڈ کی بحالی سے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو خاصی مالی راحت ملے گی جنہیں بندش کے دوران بھاری نقصان کا سامنا رہا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیموں کا اعلان کر دیا

چمن بارڈر پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کی اہم ترین گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے ہر ہفتے ہزاروں ٹن اشیائے خور و نوش، ایندھن اور تعمیراتی سامان گزرتا ہے۔ علاوہ ازیں، سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ ہر کارگو کی سخت جانچ اور اسکیننگ کے بعد ہی کلیئرنس دی جا سکے۔

Scroll to Top