حویلی فارورڈ کہوٹہ(کشمیر ڈیجیٹل)تعلیمی انقلاب کا آغاز، پروفیسر ڈاکٹر خواجہ فاروق احمد نے وائس چانسلر کا چارج سنبھال لیا —
آزاد جموں و کشمیر کے تعلیمی نقشے پر ایک نئے اور تاریخی باب کا آغاز ہو گیا ہے۔ یونیورسٹی آف حویلی کے قیام کے بعد پروفیسر ڈاکٹر خواجہ فاروق احمد کو اس نئی جامعہ کا پہلا وائس چانسلر مقرر کیا گیا، جنہوں نے باضابطہ طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔
اس موقع پر جامعہ میں ایک پرتپاک تقریبِ خیرمقدم منعقد کی گئی جس میں طلبہ و طالبات، فیکلٹی ممبران، انتظامی عملہ، سماجی و سیاسی شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ وائس چانسلر کی آمد پر شرکاء نے پھولوں کے ہار پہنائے اور اس تاریخی لمحے کو علاقے کی تعلیمی ترقی کے سنگِ میل کے طور پر سراہا۔
تقریب میں خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ یونیورسٹی آف حویلی کا قیام نہ صرف ضلع حویلی بلکہ پورے آزاد جموں و کشمیر کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے۔ اس ادارے کے قیام سے علاقے کے طلبہ و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع گھر کی دہلیز پر میسر آئیں گے اور انہیں بڑے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔
چارج سنبھالنے کے بعد پروفیسر ڈاکٹر خواجہ فاروق احمد نے وائس چانسلر سیکریٹریٹ، کلاس رومز، فیکلٹی بلاکس اور دیگر شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ایک خصوصی دعائیہ تقریب بھی منعقد ہوئی، جس میں جامعہ کی کامیابی، ترقی اور علمی معیار کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔ دعا کے بعد یونیورسٹی میں دفتری و تدریسی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔
وائس چانسلر نے بعد ازاں اپنے پہلے انتظامی و تدریسی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں جامعہ کے نظم و ضبط، تدریسی معیار، کلاس روم مینجمنٹ، فیکلٹی ڈویلپمنٹ، طلبہ کے مسائل اور ادارے کی مجموعی بہتری سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ڈاکٹر خواجہ فاروق احمد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی کے تمام فیصلے میرٹ، شفافیت اور تعلیمی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے تاکہ اس ادارے کو ایک مضبوط، فعال اور باوقار تعلیمی مرکز کے طور پر استوار کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد یونیورسٹی آف حویلی کو ایک ایسا علمی ادارہ بنانا ہے جو نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تحقیق، تعلیم اور ترقی کا مرکز بن سکے۔
جامعہ کے قیام اور وائس چانسلر کی تعیناتی پر علاقے میں خوشی و اطمینان کی فضا پائی جا رہی ہے۔ والدین، طلبہ، تعلیمی شخصیات اور مختلف سماجی حلقوں نے اسے ضلع حویلی کہوٹہ کے لیے تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔ مختلف شخصیات کی جانب سے وائس چانسلر کو مبارکباد پیش کرنے اور تعاون کی یقین دہانی کے لیے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
یہ پیشرفت حویلی کہوٹہ کے لیے ایک نیک شگون اور تعلیمی انقلاب کا آغاز قرار دی جا رہی ہے، جس سے علاقے کے تعلیمی مستقبل کو نئی سمت اور نئی بلندیوں تک پہنچنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مکیش امبانی کی اہلیہ نیتا امبانی کے بریسلٹ ٹائپ ہیروں سے جڑے ہینڈبیگ نےدنیا میں دھوم مچادی




