پاکستانی عوام

دوحہ : پاک – افغان سیز فائر مذاکرات پر پاکستانی عوام کا ردِ عمل

دوحہ:دوحہ میں پاک افغان سیز فائر مذاکرات کے دوران پاکستانی عوام نے واضح اور سخت ردعمل اختیار کیا ہے ۔

شہریوں نے کہا ہے افغان فریق پر اعتماد کرنا مشکل ہے کیونکہ افغانستان نے پہلے بلا اشتعال کارروائیاں کیں اور جب پاک فوج نے جواب دینے کی کوشش کی تو افغان حکام مذاکرات کے پیچھے چھپ گئے ۔

عوام نے کہا کہ اگر افغانستان نے دوبارہ ایسی جارحیت کی تو پاکستان کی مسلح افواج ، عوام اور فوج بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں ۔

بعض شہریوں نے بھارت کے ممکنہ کردار پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ  اگر بھارت افغانستان کے ذریعے کسی قسم کی مداخلت کرے گا تو اسے بھی نتیجہ بھگتنا پڑے گا ۔

ایک شہری نے کہا، ہم نے بھارت کو چائے دی تھی ، اب افغانیوں کو گڑ والا قہوہ پلائیں گے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ بھائی چارے کا رویہ رکھا ہے لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو پاک فوج بھرپور جواب د ے گی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاک فضائیہ کے جے ایف-17 بلاک تھری طیارے فضائی مشق کیلئے آذربائیجان پہنچ گئے

شہریوں نے کہا کہ افغانستان نے بڑی غلطی کی ہے اور اگر آئندہ بھی ایسی حرکت کی گئی تو اسے سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اور فوج ایک صفحے پر ہیں اور جب افغان فریق نے پاکستان کی قوت کا اندازہ کیا تو مدد اور مفاہمت کے لیے ہاتھ بڑھانے شروع کیے ۔

ماہرین کے مطابق عوامی ردعمل سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں اندرونی طور پر فوج اور عوام کے درمیان اتفاق موجود ہے اور افغان حکام کے رویے کے بارے میں عوامی تحفظات شدت اختیار کر چکے ہیں ۔

اس کے ساتھ ہی شہریوں نےاس بات پر زور دیا کہ وہ کسی بھی بیرونی مداخلت کو ہرگزبرداشت نہیں کریں گے اور پاکستان اپنی سرحدوں اور قومی وقار کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گا ۔

Scroll to Top