اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) اسپن بولدک چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی اشتعال انگیزی کے بعد پاک فوج کی بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائی پر افغان طالبان نے جنگ بندی کی درخواست کردی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے حالیہ جارحیت کا پاکستان نے ٹھوس اور مؤثر جواب دیا، جس کے نتیجے میں طالبان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
ذرائع نے بتایا کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی ویڈیوز مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ یہ جھوٹی ویڈیوز اس تاثر کو پھیلانے کے لیے جاری کی گئیں کہ پاک فوج کے ہتھیار ان کے قبضے میں آ گئے ہیں، تاہم سکیورٹی اداروں نے ان تمام دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی طرف سے پھیلائی جانے والی ان غلط خبروں کا مقصد عوامی تاثر کو گمراہ کرنا اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔ ذرائع نے واضح کیا کہ میدانِ جنگ میں پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کے دوران متعدد افغان طالبان کی پوسٹوں، ٹینکوں اور عملے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ کارروائی کے دوران دشمن کے کئی ٹھکانے تباہ کر دیے گئے جبکہ ان کی لاجسٹک سپورٹ بھی شدید متاثر ہوئی۔
ذرائع نے بتایا کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مکمل امن بحال نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت ہر قیمت پر یقینی بنائی جائے گی اور کسی کو بھی قومی سلامتی پر سمجھوتے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ذرائع نے مزید کہا کہ اسپن بولدک چمن سیکٹر میں فوجی کارروائی کے بعد افغان طالبان کی جانب سے فائر بندی کی درخواست موصول ہوئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک فوج کی کارروائی مؤثر اور کامیاب رہی۔ سکیورٹی اداروں کے مطابق پاکستان اپنی سرحدوں کی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت-افغانستان اعلامیہ: کشمیری عوام کا شدید احتجاج، پاسبانِ حریت کا افغان سفیر کو احتجاجی مراسلہ
پاک فوج کے ترجمان ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ملک کی سرحدوں پر پاک فوج پوری طرح چوکس ہے اور کسی بھی خطرے کا فوری اور بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔




