کنگز کالج لندن کے محققین نے موجودہ تمام سائنسی شواہد کا تجزیہ کر کے قبض کے توڑ کے لیے نئے رہنما اصول وضع کردیئے ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین غذائیت نے قبض کے علاج کے لیے ڈاکٹروں کو نئی ہدایات جاری کی ہیں جن میں یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ روزانہ چند دانے کیوی فروٹ کھانا قبض کی شکایت سے نجات دلانے میں موثر ثابت ہو سکتا ہے اور یہ عمومی طور پر دی جانے والی زیادہ فائبر کھانے کی ہدایت سے کہیں بہتر ابتدائی قدم ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ کیوی پھل روزانہ کھانا قبض کے علاج کے لیے فائبر پر زور دینے سے زیادہ موثر ہو سکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ صرف فائبر پر زور دینا کافی نہیں بلکہ قبض کے علاج کے کئی مؤثر اور آسان طریقے موجود ہیں۔
قبض کیا ہے؟
برطانیہ کی این ایچ ایس کے مطابق اگر آپ نے گزشتہ ہفتے میں 3 بار سے کم رفع حاجت کی ہو یا معمول سے کم بار باتھ روم گئے ہوں تو یہ قبض کی علامت ہو سکتی ہے۔
رفع حاجت میں زور لگانا یا یہ محسوس ہونا کہ آنتیں مکمل صاف نہیں ہوئیں بھی قبض کی علامات میں شامل ہیںلیکن تحقیق کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر ایرینی ڈیمیڈی کے مطابق قبض کی علامات کی تعداد 30 تک ہو سکتی ہے اور یہ مسئلہ اتنا سادہ نہیں جتنا سمجھا جاتا ہے۔
علاج: فروٹ، پانی اور میگنیشیم
نئی تحقیق کے مطابق علاج کے لیے سب سے پہلے پھلوں اور پانی پر توجہ دی جائے نہ کہ بازار میں دستیاب نئے پروبایوٹک یا فائبر سپلیمنٹس پر۔ڈاکٹر ڈیمیڈی کا کہنا ہے روزانہ 2 سے 3 کیوی یا 8 سے 10 آلو بخارے کھانے سے قبض میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
کیوی کا چھلکا اتار کر کھایا جائے یا نہیں؟
چھلکے کے بغیر بھی کیوی فائدہ مند ہے اور فائبر فراہم کرتا ہے لیکن چھلکے کے ساتھ کھانا بھی نقصان دہ نہیں۔کیوی میں موجود فائبر آنتوں کو تحریک دیتا ہے اور فضلے کو نرم کرتا ہے جس سے رفع حاجت آسان ہو جاتی ہے۔ آلو بخارے اور رائی بریڈ بھی اسی طرح کا اثر رکھتے ہیں۔
عام پانی نہیں، منرل واٹر بہتر
ڈاکٹر ڈیمیڈی نے یہ بھی مشورہ دیا کہ منرل واٹر نل کے پانی کے مقابلے میں قبض کے لیے زیادہ مؤثر ہے کیونکہ اس میں ضروری معدنیات زیادہ ہوتے ہیں، خاص طور پر میگنیشیم جو قدرتی طور پر جسم میں مسہل کا کام کرتا ہے۔
اس لیے میگنیشیم آکسائیڈ سپلیمنٹس کے استعمال کو بھی تحقیق میں فائدہ مند قرار دیا گیا جو نہ صرف قبض کو کم کرتے ہیں بلکہ پیٹ کے درد، اپھارہ اور زور لگانے جیسی علامات میں بھی کمی لاتے ہیں۔
پروبایوٹک کا کردار
نئی رہنمائی میں پروبایوٹکس پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ بعض اقسام چند علامات میں بہتری لا سکتی ہیں لیکن بہت سے پروبایوٹکس کے اثرات پر ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
پرانی ہدایات ناکافی تھیں
تحقیق کے مطابق ڈاکٹروں کے لیے پہلے دستیاب رہنما اصول محدود اور پرانے ہو چکے تھے جن میں صرف فائبر اور پانی کی مقدار بڑھانے کا مشورہ دیا جاتا تھا۔نئی گائیڈ لائنز 75 کلینیکل ٹرائلز پر مبنی ہیں اور ایک ماہر پینل نے ان کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے۔
صحت بخش تبدیلی کی طرف قدم
تحقیق کے سینئرمصنف پروفیسر کیون وھیلن کے مطابق یہ نئی گائیڈ لائنز ڈاکٹروں اور مریضوں کو غذا کے ذریعے قبض کے مؤثر علاج کی جانب رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
برٹش ڈائیٹک ایسوسی ایشن جس نے اس منصوبے کی مالی معاونت کی کا کہنا ہے کہ یہ گائیڈ لائنز معالجین کے لیے ایک شاندار ذریعہ ہیں اور ایک سائنس پر مبنی، غذا پر مرکوز طریقہ علاج کو فروغ دیتی ہیں۔
پس اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزانہ 2-3 کیوی یا 8-10 آلو بخارے قبض کے توڑ کے لیے مؤثر ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں منرل واٹر، میگنیشیم آکسائیڈ سپلیمنٹس فائدہ مند اور پروبایوٹکس کا محدود کردار بھی سودمند ہوسکتا ہے۔




