امریکی سنٹرل کمانڈکا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف طاقتور حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تاکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں معصوم شہریوں کے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے اور ان پر حملہ کرنے کی بھاری قیمت ادا کی جا سکے۔
امریکی سنٹرل کمانڈکے مطابق امریکی حملے تین تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کئے گئے ہیں جو آبنائے ہرمز سے گزر رہے تھے۔ ایران کی جارحیت غیر ضروری، خطرناک اور جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی تھی۔
U.S. Central Command forces have begun launching a series of powerful strikes against Iran to impose heavy costs for targeting and attacking commercial shipping crewed by innocent civilians in an international waterway. The U.S. strikes are in response to Iranian attacks on three…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 7, 2026
دوسری طرف ایران کے سرکاری میڈیاکے مطابق جنوبی ایران کے کئی علاقوں بشمول سیریک ،قشم جزیرہ اور بندرعباس میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا کہ سیریک کے گاؤں تہروئی کے قریب 7دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ایران کی محبت باہمی،پیار نہ ہوتا تو پاکستان کی ثالثی قبول نہ کرتے،اسماعیل بقائی
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق سیریک جزیرہ کے طاہروی گیٹ کے قریب 6پروجیٹکل میزائل گرے ہیں۔
دوسری طرف ایران کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے ہر ضروری اقدام کریں گے۔
یاد رہے کہ مفاہمتی یادداشت کے باوجود امریکا اور ایران کے مابین سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انتباہ جاری کیا تھا کہ دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو مزید مذاکرات نہیں کرینگے۔
قبل ازیں نے ایران نے آبنائے ہرمز میں قطر سے منسلک ایک جہاز پر حملے کے قطری الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں حیران کن قرار دیا تھا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے اور اس کے انتظام سے متعلق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے۔
اس سے قبل قطر نے ایران کے نائب سفیر کو طلب کرکے آبنائے ہرمز کے قریب ایک قطری ایل این جی ٹینکر کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کے واقعے پر باضابطہ احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا تھا۔




