ولورہمٹن: (کشمیر ڈیجیٹل) ولورہمٹن میں آزاد کشمیر کی معروف سیاسی و فکری شخصیت اور سابق امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر جناب عبدالرشید ترابی کے اعزاز میں ایک پُروقار فکری و نظریاتی استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں کمیونٹی رہنماؤں، علمائے کرام، نوجوانوں اور سماجی کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کا آغاز برادر محمد خلیل نے تلاوتِ قرآنِ حکیم سے کیا، جس کے بعد انہوں نے آزاد کشمیر میں جاری عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کے اہم نکات اور پاکستان کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
میزبان مقرر نے جناب عبدالرشید ترابی کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ وہ آزاد کشمیر کی ایک عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی بصیرت، متانت اور فکری گہرائی سے نہ صرف کشمیر بلکہ پوری امتِ مسلمہ میں قیادت کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے علامہ اقبال کے شعر ‘نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پُرسوز’ کو ترابی صاحب جیسی شخصیات کے لیے حقیقی تعبیر قرار دیا۔
تقریب سے تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی، سینئر صحافی سید کرامت شاہ بخاری، فردوس بیگ، راجہ فریاد خان اور اعجاز شاہق نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر نمایاں شخصیات میں راجہ محمود خان، راجہ عبدالجبار، راجہ عبدالرزاق خان، راجہ افتخار خان، راجہ خالد خان، راجہ محفوظ خان، راجہ وحید خان، راجہ اصغر خان اور ایڈوکیٹ راجہ ولید خان شامل تھے۔
مہمانِ خصوصی عبدالرشید ترابی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر کی تحریکِ آزادی صرف ایک سیاسی جدوجہد نہیں بلکہ ایمان، قربانی اور نظریاتی استقامت کی تحریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی زبان، نظریے اور سچائی کی حفاظت کریں کیونکہ دشمن اب زمین پر نہیں بلکہ فکر و نظریے پر حملہ آور ہے۔
انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات بنیادی اور جائز تھے اور ہم نے ان کی حمایت بھی کی، تاہم مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ ایک تاریخی تناظر رکھتا ہے۔ یہ نشستیں اس وقت آزاد کشمیر اسمبلی کو پوری ریاست کی نمائندگی دینے کے لیے رکھی گئی تھیں تاکہ مہاجرین کو حقِ خودارادیت کے لیے ووٹ دینے کا حق حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان نشستوں کے طریقہ انتخاب پر بحث ہو سکتی ہے مگر انہیں سرے سے ختم کرنا ریاست کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے، جبکہ دوسری طرف بھارت مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں ہندو آباد کر رہا ہے۔
ترابی صاحب نے کہا کہ آج ریاست کے عوام پاکستان اور بھارت کے طرزِ عمل کا تقابل کر رہے ہیں۔ ایک طرف لداخ کی تحریک کو سختی سے دبایا گیا، جبکہ پاکستان کی اعلیٰ سطحی قیادت نے دو بار مذاکرات کیے اور بیشتر مطالبات تسلیم کیے۔ اس کے باوجود پاکستان، عوام یا اداروں کے خلاف نفرت پھیلانا کسی کشمیری کا نہیں بلکہ دشمن کا ایجنڈا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے نوجوان نسل کو نصیحت کی کہ وہ سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے بچیں اور علم و کردار کے ذریعے قوم کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے پیش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ امتِ مسلمہ کے اندر پائے جانے والے انتشار اور کمزوری کا علاج فکری یکجہتی، شعوری بیداری اور قیادت کی تربیت میں مضمر ہے۔
عبدالرشید ترابی نے کہا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام نے تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جو ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ حق و انصاف کی یہ جدوجہد بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کا مشکور ہوں،پرچی سے وزیر اعلیٰ نہیں بنا،سہیل آفریدی
یہ تقریب فکری بیداری اور نظریاتی وابستگی کے ایک خوبصورت اظہار کے طور پر یاد رکھی جائے گی، شرکاء نے اسے کمیونٹی کے لیے فکری رہنمائی اور عمل کے ایک نئے باب سے تعبیر کیا۔




