پشاور: (کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار سہیل آفریدی 90 ووٹ لے کر خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت ہوا۔ علی امین گنڈا پور ایوان میں پہنچے تو حکومتی اراکین نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا۔ اسپیکر نے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا عمل شروع کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجائی جائیں گی تاکہ غیر حاضر اراکین واپس آجائیں۔
اس موقع پر بابر سلیم سواتی نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈا پور نے آئین کے آرٹیکل 130(8) کے تحت 8 اکتوبر کو استعفیٰ دیا تھا جس کی آج تصدیق ہو رہی ہے۔ گورنر کا اقدام مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پہلے اور دوسرے استعفے کے دستخط میں کوئی فرق نہیں، دونوں آئین و قانون کے مطابق تھے۔
اسپیکر نے کہا کہ چند لوگوں کی خواہش ہے کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ نہ بنیں، لیکن آئین لوگوں کی خواہشات پر نہیں چل سکتا، آئین کے مطابق اسمبلی کا عمل آگے بڑھے گا۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے سہیل خان کو پارٹی کی جانب سے وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کیا۔
اسمبلی میں ووٹنگ کے بعد سہیل آفریدی کو 90 ووٹ ملے۔ کل 145 ارکان پر مشتمل اسمبلی میں حکومتی ارکان کی تعداد 93 اور اپوزیشن کے 52 تھی، جبکہ قائد ایوان کے انتخاب کے لیے 73 ووٹ درکار تھے۔
علی امین گنڈا پور کا اسمبلی میں خطاب:
علی امین گنڈا پور نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کو پیشگی مبارکباد دیتا ہوں، ہم ملک میں قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے جو اقدامات کیے وہ سب ریکارڈ پر ہیں۔ جب حکومت ملی تو صرف 15 دن کی تنخواہیں تھیں، آج صوبائی خزانے میں 218 ارب روپے موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو گلہ ہوگا کہ میں نے فنڈز نہیں دیے، لیکن عوام خوش ہیں کیونکہ پیسہ عوام پر لگایا۔ بانی پی ٹی آئی ہمارے لیے اور ہماری نسلوں کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، ہم بانی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں جہاں بھی مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں، ہماری جدوجہد پاکستان اور صوبے کے عوام کے لیے جاری رہے گی۔
اپوزیشن کا اجلاس سے بائیکاٹ:
اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ تاحال منظور نہیں ہوا، ایک وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے دوسرے کا انتخاب نہیں ہوسکتا۔ گورنر نے علی امین گنڈا پور کو بلایا ہے تاکہ ابہام دور کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس نمبرز پورے ہیں تو معاملہ متنازع کیوں بنایا جا رہا ہے، ہم اس غیر قانونی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔
اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے عمل کا بائیکاٹ کر دیا۔ یاد رہے کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب میں چار امیدوار میدان میں تھے جن میں پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی، جے یو آئی کے مولانا لطف الرحمان، پیپلز پارٹی کے ارباب زرک اور ن لیگ کے سردار شاہ جہان شامل تھے۔ اپوزیشن جماعتوں میں کسی ایک نام پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
قبل ازیں اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران اسمبلی کی گیلری میں شور شرابہ ہوا جس پر اسپیکر نے وارننگ دی کہ اگر شور بند نہ ہوا تو اجلاس کی کارروائی روک کر گیلری خالی کروا دی جائے گی۔
پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کون ہیں؟
خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا تعلق ضلع خیبر سے ہے۔ وہ 2024 کے عام انتخابات میں پہلی بار رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ وہ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن خیبر پختونخوا کے صدر رہ چکے ہیں۔ علی امین گنڈا پور کی حکومت میں وہ معاون خصوصی برائے کمیونیکیشن اینڈ ورکس رہے اور بعد ازاں صوبائی کابینہ میں تبدیلی کے بعد وزیر برائے ہائر ایجوکیشن مقرر ہوئے۔ سہیل آفریدی پی ٹی آئی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فوج نے برطانوی کیمبرین پیٹرول2025میں گولڈمیڈل اپنے نام کرلیا




