اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) اسلام آباد اور راولپنڈی کے جڑواں شہروں میں پیر کے روز حالات بتدریج معمول پر آ گئے، پولیس کی جانب سے مریدکے میں مظاہرین کو ہٹانے کے بعد اہم شاہراہوں پر ٹریفک بحال کر دی گئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق اتوار کی شب کامیاب آپریشن کے بعد احتجاجی دھرنا ختم کر دیا گیا، جس کے بعد جی ٹی روڈ کو صاف کر کے عام ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔ صورتحال میں بہتری کے ساتھ اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والی تمام سڑکیں دوبارہ کھول دی گئیں۔ راولپنڈی میں چار روزہ تعلیمی تعطل کے بعد اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں بحال ہو گئیں جبکہ مری روڈ پر تجارتی سرگرمیاں بھی تیزی سے شروع ہو گئیں۔ شاپنگ سینٹرز اور کاروباری مراکز دوبارہ کھلنے سے ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔
تاہم مری روڈ سے فیض آباد جانے والا راستہ تاحال بند ہے اور اسلام آباد و راولپنڈی کے درمیان میٹرو بس سروس اب تک بحال نہیں کی گئی۔
انتظامیہ نے تصدیق کی کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہیں جس سے شہریوں کی مواصلات میں بہتری آئی ہے۔شہری آمد و رفت کو سہولت دینے کے لیے آئی جے پی روڈ، ڈبل روڈ، ایکسپریس وے اور نائنتھ ایونیو جانے والی سڑکوں کو بھی کھول دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مریدکے میں کلیئرنس آپریشن کئی روزہ احتجاجی مارچ کے بعد عمل میں لایا گیا جو لاہور سے اسلام آباد کی جانب شروع ہوا تھا۔ احتجاجی گروہ کی سرگرمیوں نے حکومتی و سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی تشویش پیدا کر دی تھی۔
اتوار کے روز وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے احتجاجی قیادت سے مارچ ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مشکل حالات میں حکومت اور افواجِ پاکستان کے ساتھ تعاون کیا جائے۔رانا ثناءاللہ نے بتایا کہ متعدد سیاسی و مذہبی تنظیموں نے اس احتجاج پر سنجیدہ اعتراضات اٹھائے ہیں اور ملکی مفاد میں سیاسی ہم آہنگی پر زور دیا ہے۔
لاہور میں احتجاج کے دوران مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق کم از کم 112 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ 100 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے شاہدرہ ٹاؤن تھانے پر حملہ کر کے سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔
اسی روز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں ملک میں امن و امان اور سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں انسدادِ دہشتگردی اقدامات سمیت قومی سلامتی کے دیگر اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔وزیرِ داخلہ نے وزیراعظم کو داخلی سلامتی کی صورتحال اور وزارتِ داخلہ کی جانب سے امن و استحکام یقینی بنانے کے اقدامات پر بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا اسمبلی میں آج وزیراعلیٰ کا انتخاب ہوگا، پی ٹی آئی کامؤقف واضح
وزیراعظم شہباز شریف نے محسن نقوی اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات جاری رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت قانون کی حکمرانی یقینی بنانے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔




