2005کے زلزلہ کو 20سال بیت گئے،811منصوبوں پر کام کا آغاز ہی نہ ہوسکا، سیکرٹری سیرا

مظفرآباد:سیکرٹری سیرا آزاد کشمیر خالد محمود مرزا نے کہا ہے کہ قیامت خیز زلزلہ 2005 میںمتاثرہ اضلاع میں 125 ارب روپے کے مالی نقصان کے بدلے میں اسوقت تعمیرنو پروگرام کا مجموعی حجم 225 ارب روپے ہے جس کے خلاف 181 ارب روپے کے اخراجات عمل میں آچکے ہیں جبکہ تعمیرنو پروگرام کی تکمیل کیلئے تقریباً 44 ارب روپے مزید درکار ہیں ۔

قیامت خیز زلزلہ کی 20 ویں برسی کے موقع پر میڈیا نمائندگان کو تفصیلات بتاتے ہوئے سیکرٹری سیرا نے کہا کہ آج سے 19 سال قبل 8 اکتوبر 2005ء کو ریکٹر اسکیل 7.6 شدت کے قیامت خیز زلزلہ نے آزاد کشمیر کی 56 فیصد آبادی کو متاثر کیا ۔

اس سانحہ میں آزاد کشمیر سے 46 ہزار سے زائد شہداء اور 33 ہزار زخمی اور تین لاکھ سے زائد نجی املاک جبکہ خطہ کے 53 فیصد رقبہ پر موجود صحت،تعلیم، آب رسانی و نکاسی اور مواصلات کی سہولیات مکمل تباہی سے دوچار ہوئیں۔

اس زلزلہ میں ہونے والے نقصان کا مجموعی تخمینہ اس وقت تقریبا 125 ارب روپے لگایا گیا ( جس میں نجی شعبہ میں 61 ارب روپے جبکہ سرکاری دفاتر و عوامی سہولیات کے شعبہ میں64 ارب روپے شامل تھے)۔

سیکرٹری سیرا نے بتایا کہ 7608 منصوبوں میں سے 5878 منصوبے مکمل کر کے متعلقہ محکموں کے حوالے کیے جاچکے ہیں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں جدید بین الاقوامی معیار کی سہولیات برادر اسلامی اور دوست ممالک کے تعاون سے تعمیر کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فلپائن میں6.9شدت کے زلزلہ سے تباہی،20 افراد ہلاک،ہنگامی حالت نافذ

گھروں کی تعمیر اور نجی املاک کیلئے زلزلہ مزاحم ڈیزائن کی تعمیرات کیلئے متاثرہ آبادء کو تربیت بھی دی گئی زلزلہ مزاحم پہلو کو پرائیوٹ گھروں کی تعمیر نو میں یقینی بنانے کے اعتراف میں ایراء کو سال 2011ء میں اقوام متحدہ کی جانب سے ” ساساکاوا ایوارڈ ” سے نوازا گیا

خالد محمود مرزا نے بتایاکہ اس وقت زیر کار کل 7608 منصوبہ جات زیر کار ہیں جن میں 5878 (77فیصد) مکمل ہو چکے ہیں اور 919 (12فیصد) پر کام جاری ہےجبکہ مالی مشکلات کے باعث بقیہ 811 (11 فیصد) پر کام کا آغاز نہیں ہو سکا۔

تعمیر نو پروگرام کی شعبہ دار موجودہ کارکردگی سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ شعبہ تعلیم کے 2718 منصوبہ جات میں سے 1606 مکمل ہوچکے ہیں 515 پر کام جاری ہے جبکہ 597 پر کام کا آغاز فنڈز نہ ہونے کے باعث نہیں ہوا۔

شعبہ صحت کے 160 منصوبہ جات میں سے 119 مکمل، 21 زیر تعمیر جبکہ 20 پر کام شروع نہیں ہوا، ماحولیات و جنگلات کے 128 منصوبہ جات میں سے 84 مکمل 43 جاری جبکہ 1 پر کام کا آغاز نہیں ہوا۔

گورننس (سرکاری عمارات) کی 223 منصوبہ جات میں سے 161 پر کام مکمل، 60 پر جاری جبکہ 2 منصوبوں پر کام کا آغاز نہیں ہوا، لائیولی ہڈ (زراعت و امور حیوانات) کے 1426 منصوبہ جات میں سے 1038 مکمل 251 جاری 137 پر کام کا آغاز نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت کا افغان زلزلہ متاثرین کی مدد کیلئے میڈیکل ٹیمیں بھیجنے کا اعلان

پاور کے 11 منصوبہ جات پر کام مکمل کیا جاچکا ہے، سماجی تحفظ کے 6 اور ٹیلی کمیونیکیشن کے ایک اورٹاؤن پلاننگ (اربن ڈویلپمنٹ) کے منصوبہ جات پر کام مکمل ہوچکا ہے، ٹرانسپورٹ (مواصلات نقل و حمل) کے 138 منصوبہ جات میں سے 136 پر کام مکمل کیا جاچکا ہے ایک پر کام جاری ہے جبکہ ایک پر کام کا آغاز نہیں ہوا۔

واٹسن (آب نوشی و نکاسی آب) کے 2795 منصوبہ جات میں سے 2714 منصوبہ جات مکمل 28 پر کام جاری جبکہ 53 منصوبہ جات پر کام کا آغاز نہیں ہوسکا ہے یوں مجموعی طور پر 7608 منصوبہ جات میں سے 5878پر کام مکمل ہوچکا ہے 919 پر کام جاری ہے اور 811 پر کام کا آغاز نہیں ہوسکا ہے۔

آزاد کشمیر کے زلزلہ متاثرہ اضلاع میں 125 ارب روپے کے مالی نقصان کے بدلے میں اسوقت تعمیرنو پروگرام کا مجموعی حجم 225 ارب روپے ہے جس کے خلاف 181 ارب روپے کے اخراجات عمل میں آچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تعمیرنو پروگرام کی تکمیل کیلئے تقریبا 44 ارب روپے مزید درکار ہیں جن میں سے جاریہ منصوبہ جات کے لئے 20.113 ارب روپے اور بقیہ رہ جانے والے منصوبہ جات کے لئے 24.013 ارب روپے شامل ہیں تاہم اپریل 2021ء کے بعد زیر تعمیر منصوبہ جات کے لئے فنڈز کی فراہی تعطل کا شکار ہے بالخصوص طالبات کے 476 سکولز کی تعمیر عدم فراہمی فنڈز کی وجہ سے نامکمل ہے۔

اس ضمن میں 65 سکول ہا جن پر تعمیراتی کام 80 فیصد سے زائد ہو چکاہے کی تکمیل کے لئے وفاقی پلاننگ کمیشن کو رواں مالی سال میں 1 ارب روپے فراہم کرنے کی تحریک کی جاچکی ہے، جس کی فراہمی رواں مالی سال میں متوقع ہے اور ان منصوبہ جات کو مکمل کرکے متعلقہ محکموں کے سپرد کردیا جائے گا۔

Scroll to Top