واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ڈیموکریٹک اکثریت رکھنے والی ریاستوں کے لیے مختص 26 ارب ڈالر کے فنڈز منجمد کر دیئے ہیں ۔
منجمد کئے گئے فنڈز میں سب سے بڑا حصہ نیویارک کے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے مختص 18 ارب ڈالر کا ہے ۔
اس کے علاوہ 8 ارب ڈالر کے گرین انرجی منصوبے بھی روک دیے گئے ہیں ، جو کیلیفورنیا اور الینوائے سمیت16 ڈیموکریٹک اکثریتی ریاستوں میں چل رہے تھے ۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ فنڈز شٹ ڈاؤن کے دوران غیر ضروری اخراجات کے زمرے میں آتے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں: اگر مجھے امن کا نوبل انعام نہ ملا تو یہ امریکا کی توہین ہوگی،ڈونلڈ ٹرمپ
ڈیموکریٹس نے اس اقدام کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے ۔ ڈیموکریٹک رہنماؤں کے مطابق ٹرمپ ملک کے اہم ماحولیاتی اور شہری ترقی کے منصوبوں کو صرف سیاسی مخالفت کی وجہ سے نقصان پہنچا رہے ہیں ۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نیویارک جیسے بڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کے اہم منصوبے تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں ، جبکہ گرین انرجی کے منصوبوں کی معطلی سے ماحولیاتی اہداف اور روزگار کے ہزاروں مواقع بھی متاثر ہوں گے ۔
یاد رہے کہ امریکا میں اخراجات کا بل منظور نہ ہونے سے حکومت کا کام رُک گیا ہے ، خلائی ادارے ناسا سمیت متعدد محکمے بند کر دئیے گئے ۔
یہ بھی پڑھیں:امیر قطر کا ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ، امن منصوبے پر تبادلہ خیال
رپورٹس کے مطابق ساڑھے 7 لاکھ وفاقی ملازمین کو جبری چھٹیوں پر بھیج دیا گیا، کیپیٹل ہل اور کانگریس لائبریری بھی مہمانوں کے لیے بند کر دی گئی ہے ۔




