اسلام آباد ( کشمیر ڈیجیٹل)رحمت اللعالمین اتھارٹی کے چیئرمین خورشید ندیم نے کہا ہے کہ مذہبی معاملات میں خواتین کا کردار مسلم ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ دین کا علم دینے کا عملی نمونہ قائم کیا۔
انہوں نے امت کو علمی و فکری رہنمائی دی، دہشت گردی اور فتنہ خوارج کو بروقت بے نقاب کیا۔ وہ پاک چائنا فرینڈ شپ سنٹر میں نظام المدارس پاکستان اور منہاج القرآن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام منعقدہ تقریبِ رونمائی سے خطاب کر رہے تھے، جس میں ڈاکٹر طاہرالقادری کی تفسیر قرآن، اصولِ تفسیر، حدیث نبوی ﷺ اور سیرت طیبہ پر مبنی پانچ ضخیم کتب پیش کی گئیں۔
خورشید ندیم نے کہا کہ اللہ نے ڈاکٹر طاہرالقادری کو علم، حلم، قلم و نطق کی قوت اور قائدانہ صلاحیتوں سے نوازا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی علمی و فکری خدمات آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے کہا کہ شیخ الاسلام نے اپنے دور کے ہر اہم موضوع پر قلم اٹھایا اور امت مسلمہ کو علمی و فکری رہنمائی فراہم کی۔ موجودہ افراتفری اور فکری انتشار کے ماحول میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور یہ تصانیف اسی مقصد کو تقویت بخشتی ہیں۔
کینیڈا سے آئے ہوئے شیخ احمد بدرہ نے کہا کہ پاکستانی عوام عاشقِ رسول ہیں، علم دوست اور مہمان نواز ہیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی تصانیف اسلام کو درپیش تمام چیلنجز کا قابلِ عمل حل پیش کرتی ہیں۔
منہاج القرآن کے ناظم اعلیٰ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ پاک چائنا فرینڈشپ ہال آج سے علم کی بنیاد پر بین المذاہب رواداری، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مکاتبِ فکر کے درمیان دوستی کا نشان بھی بن گیا ہے۔
جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور، جج فیڈرل شریعت کورٹ نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی کتابیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ علم کے چشمے ابھی نہیں سوکھے۔ ہر تصنیف تحقیق و جستجو کا اعلیٰ نمونہ ہے۔
ڈاکٹر ساجد الرحمن، سابق وائس پریذیڈنٹ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی علمی کاوشوں نے نہ صرف مشرق بلکہ مغرب کی درسگاہوں پر بھی مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان کی تصانیف قرونِ اولیٰ کے علمی ذخائر کا عکس ہیں اور بجا طور پر وہ شیخ الاسلام کے لقب کے حق دار ہیں۔

ڈی جی مذہبی تعلیم کے نمائندہ میجر جنرل (ر) سید اظہر عباس نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف اس وقت آواز بلند کی جب یہ آسان نہ تھا۔ انہوں نے نوجوان نسل کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشبو سے روشناس کرایا اور اسلام کی پرامن تعلیمات کو اجاگر کیا۔
ڈاکٹر ابو بکر، چیئرمین اسلامی بینکنگ و فنانس، انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی نے کہا کہ انہوں نے بچپن میں شیخ الاسلام کا خطاب سن کر دین کے علوم کی طرف رخ کیا۔ اسلامی بینکنگ کے حوالے سے سب سے واضح اور مدلل تصور بھی شیخ الاسلام نے ہی پیش کیا اور یہ ثابت کیا کہ اسلامی فنانس عملی حقیقت ہے۔
پیر سید علی رضا بخاری، سجادہ نشین بساہاں شریف آزاد کشمیر نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی تصانیف محض کتابیں نہیں بلکہ ایک انقلاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام نے امت کو ایسا راستہ دکھایا ہے جس میں “قال” کے ساتھ “حال” بھی شامل ہے، یہی نوجوانوں کے دلوں کو بدلنے کا ذریعہ ہے۔
تحریک نوجوانان پاکستان کے سربراہ عبداللہ گل نے کہا کہ کئی ممالک کے سفیروں نے بتایا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی کتابوں نے بیرونِ ملک مسلمانوں کی زندگیوں پر بھی خوشگوار اثرات مرتب کیے ہیں۔
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد نعیم علی گجر ایڈووکیٹ نے کہا کہ یوکے میں منہاج القرآن کی بدولت مسلمانوں کو تجہیز و تکفین کی مفت سہولت دستیاب ہے جو انسانیت کی خدمت کی شاندار مثال ہے۔
اسلامی یونیورسٹی کے ڈاکٹر آفتاب نے کہا کہ شیخ الاسلام کی کتب بین الاقوامی تحقیقی معیار پر پوری اترتی ہیں۔ ان کی فکر میں اعتدال اور رواداری غالب ہے۔ تکفیریت کے خلاف سب سے بلند آواز ڈاکٹر طاہرالقادری کی ہے۔
تقریب سے پیر سید اجمل شاہ، ڈاکٹر حبیب الرحمان عاصم، ڈاکٹر محسن ضیاء قاضی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں پیر آف گولڑہ شریف صاحبزادہ علی جنید الحق گیلانی نے دعا کرائی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور بورڈ: نویں کلاس کے سالانہ امتحان کے نتائج اور پوزیشن ہولڈرز کا اعلان،گزٹ کشمیر ڈیجیٹل ویب سائٹ پر شائع




