(کشمیر ڈیجیٹل)آزاد جموں و کشمیر کے جنگ بندی لائن سے ملحقہ علاقے منڈہول میں گرلز ہائی سکول کی عمارت کی عدم تعمیر پر شہری پھٹ پڑے۔
اہلِ علاقہ کے مطابق اس عمارت کی تعمیر 2005 کے زلزلے کے بعد شروع ہوئی تھی، لیکن آج تک مکمل نہ ہو سکی۔ اس دوران کئی وزرائے اعظم اور اراکین اسمبلی آئے مگر کسی نے سنجیدگی سے توجہ نہ دی، حالانکہ مقامی آبادی بار بار اس جانب توجہ دلاتی رہی ہے۔
شہریوں نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم عبد القیوم نیازی کے حلقہ انتخاب کے اس تعلیمی ادارے میں اڑھائی سو سے زائد طالبات پرانی اور بوسیدہ عمارت میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ سکول جنگ بندی لائن کے قریب واقع ہے جہاں کسی بھی وقت فائرنگ کا خطرہ رہتا ہے، جس کے باعث طالبات کی زندگیاں بھی غیر محفوظ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کو ’دوست‘ قرار دے دیا،ٹرمپ کا یوٹرن
انہوں نے کہا کہ ہم صرف گرلز ہائی سکول کی نہیں بلکہ ڈگری کالج سمیت دیگر نامکمل تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی بھی بات کر رہے ہیں۔ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ فوری طور پر ان منصوبوں کو مکمل کرے تاکہ طلبہ و طالبات کو محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔




