واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین میں فوجی پریڈ کی تعریف کے ساتھ چینی صدر سے امریکا کا ذکر نہ کرنے کا شکوہ بھی کردیا۔
وائٹ ہاؤس میں پولینڈ کے صدر کیرول ناروکی سے ملاقات میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین کی فوجی پریڈ کی تقریب خوبصورت اور بےحد متاثر کُن تھی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے چینی صدر کی تقریر بھی سُنی، صدر شی جن پنگ میرے دوست ہیں، تقریر میں امریکا کا ذکر ہونا چاہیے تھا کیونکہ امریکا نے چین کی بہت زیادہ مدد کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پیوٹن اور کم جونگ ان کو میری نیک خواہشات پہنچائیں،چینی صدر کو ٹرمپ کاطنزیہ پیغام
روس سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگلے ایک دو ہفتے میں معلوم ہوگا کہ روس سے تعلقات کتنے اچھے ہیں۔ روسی صدر کا نام لیے بغیر ٹرمپ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ان سے بات کروں گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روسی صدر کے لیے کوئی پیغام نہیں ہے، روسی صدر کو معلوم ہےکہ میرا کیا مؤقف ہے، صدر پیوٹن کسی نہ کسی طرح فیصلہ کرلیں گے، روس کا جو فیصلہ ہوگا ہم اس پر خوش ہوں گے یا ناخوش، اگر ہم ناخوش ہوئے تو آپ ردعمل دیکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کسی قسم کی تشویش نہیں،چین اور روس کے بڑھتے تعلقات ٹرمپ کا ردعمل
خیال رہے کہ چین میں جنگ عظیم دوم میں جاپان کے خلاف فتح کے 80 سال پورے ہونے پر شاندار پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب میں روس کے صدر پیوٹن، شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان، وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر پزشکیان سمیت 26 ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔




