(کشمیر ڈیجیٹل) پنجاب اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں 5 ستمبر تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے سیلاب کی شدت میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ ہیڈ ورکس پر پانی کی سطح 4 لاکھ 68 ہزار کیوسک، خانکی ہیڈ ورکس پر 339470 کیوسک اور قادرآباد ہیڈ ورکس پر 232450 کیوسک ریکارڈ کی گئی۔ تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ 355744 کیوسک جبکہ چنیوٹ پل پر 108343 کیوسک ریکارڈ ہوا۔
دریائے راوی میں جسر کے مقام پر پانی 71010 کیوسک، شاہدرہ پر 53630 کیوسک، بلوکی ہیڈ ورکس پر 117655 کیوسک اور سدھنائی ہیڈ ورکس پر 193470 کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح دریائے ستلج میں جی ایس والا پر پانی کی سطح 269501 کیوسک، سلیمانکی ہیڈ ورکس پر 122736 کیوسک، اسلام ہیڈ ورکس پر 95727 کیوسک اور پنجند ہیڈ ورکس پر 182107 کیوسک ریکارڈ ہوئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مشرقی دریاؤں کے بالائی علاقوں میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں دریائے چناب اور اس سے منسلک نالوں میں 3 اور 4 ستمبر کے دوران انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔ دریائے راوی کی صورتحال بھارت کے مادھوپور بیراج سے پانی کے اخراج پر منحصر ہے، تاہم مقامی نالوں میں بارشوں کے باعث پانی کی سطح بلند رہنے کا امکان ہے۔
دریائے سندھ اور جہلم میں بھی پانی کی آمد و اخراج جاری ہے۔ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1431.43 فٹ جبکہ منگلا ڈیم میں 1129.60 فٹ ریکارڈ کی گئی۔ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر 22400 کیوسک پانی کا اخراج جاری ہے۔
سیلاب سے متاثرہ جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں پاک فوج، سول انتظامیہ اور دیگر اداروں کی ریسکیو و ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں۔
ادھر پاور ڈویژن کی 3 ستمبر تک کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔ پیسکو کے علاقوں میں متاثرہ 91 میں سے 85 فیڈرز مکمل بحال کر دیے گئے جبکہ گیپکو میں 103 میں سے 96 فیڈرز جزوی یا مکمل طور پر بحال ہو گئے ہیں۔ لیسکو کے 67 متاثرہ فیڈرز میں سے 31 مکمل بحال ہو چکے ہیں۔ فیسکو، میپکو اور ٹیسکو کے متعدد علاقوں میں بھی بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے، تاہم کچھ مقامات پر بحالی کا عمل سیلابی پانی اترنے کے بعد مکمل کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں متاثرہ 1607311 صارفین میں سے 1266928 کو بجلی فراہم کر دی گئی ہے جبکہ باقی صارفین کیلئے بحالی کا عمل ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں مکمل چاند گرہن کب اور کہاں نظر آئے گا؟
محکمہ موسمیات کے مطابق کشمیر کے مختلف اضلاع، خصوصاً مظفرآباد، نیلم اور راولا کوٹ میں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، جس سے مقامی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔ شہریوں کو محتاط رہنے اور نشیبی علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔




