آزاد کشمیر سمیت ملک بھر کے دریاؤں کی صورتحال، واپڈا نے تفصیل جاری کردی

(کشمیر ڈیجیٹل) دریائے جہلم اور منگلا ڈیم سمیت ملک بھر کے بڑے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی مجموعی صورتحال پر واپڈا نے تفصیل جاری کی ہے، جس کے مطابق مجموعی ذخائر تسلی بخش قرار دیے گئے ہیں تاہم پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید دریائی سیلاب کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان جاری ہے۔

واپڈا کے ترجمان کے مطابق دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 43 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کی گئی، جبکہ منگلا ڈیم میں پانی کا موجودہ ذخیرہ 57 لاکھ 82 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ سطح ملکی ضروریات کے اعتبار سے حوصلہ افزا ہے۔

اسی طرح دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 86 ہزار 100 کیوسک اور تربیلا ڈیم میں ذخیرہ 57 لاکھ 28 ہزار ایکڑ فٹ تک پہنچ چکا ہے۔ چشمہ ریزروائر میں پانی کا ذخیرہ 2 لاکھ 12 ہزار ایکڑ فٹ جبکہ آمد 2 لاکھ 52 ہزار 200 کیوسک ریکارڈ ہوئی۔

فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے چناب، راوی اور ستلج میں کئی مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 91 ہزار کیوسک، راوی میں شادرہ پر ایک لاکھ 45 ہزار اور دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔

پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلاب سے اب تک کم از کم 25 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ سیالکوٹ کے سمبڑیال میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بہہ گئے، گوجرانوالہ ڈویژن میں 15، گجرات میں 4، نارووال میں 3 اور حافظ آباد میں 2 افراد ہلاک ہوئے۔

قصور، نارووال، پنڈی بھٹیاں اور بہاولنگر کے سیکڑوں دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں، ہزاروں افراد بے گھر اور فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ چشتیاں میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے 300 سے زائد دیہات ڈوب گئے اور 7 ہزار ایکڑ رقبہ متاثر ہوا۔ بہاولنگر میں ڈیڑھ لاکھ افراد متاثر اور 90 ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وادیِ لیپہ کا تاریخی واٹر چینل آج بھی مقبوضہ کرناہ کے کھیتوں کو سیراب کر رہا

انتظامیہ کے مطابق ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے، مگر مزید بارشوں یا بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کی صورت میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ تربیلا ڈیم

Scroll to Top