مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)دارالحکومت مظفرآباد سمیت آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں مقیم افغان باشندے حکومت پاکستان کی دی گئی ڈیڈلائن کے بعد واپس افغانستان جانے لگے ہیں۔ تاہم اس دوران کئی افغان شہری مقامی افراد کے کروڑوں روپے لے کر اچانک غائب ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق مظفرآباد شہر اور دیگر علاقوں میں طویل عرصے سے کاروبار اور رہائش رکھنے والے بعض افغان باشندے مقامی شہریوں سے مجموعی طور پر 30 کروڑ روپے سے زائد رقم لے کر فرار ہوئے۔ متاثرین میں ایک کاروباری شخصیت شامل ہیں جن کے 40 لاکھ روپے ڈوب گئے، جبکہ سبزی کے کاروبار کرنے والے مقامی افراد میں سے کسی کے 18 لاکھ اور کسی کے 20 لاکھ روپے کے نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق افغان باشندے نہ صرف کاروباری سرمایہ بلکہ کرائے پر لیے گئے مکانات، دکانوں اور گاڑیوں کا کرایہ بھی ادا کیے بغیر چھوڑ گئے۔ متعدد مقامی افراد اپنی زندگی کی جمع پونجی لگا کر کاروبار کر رہے تھے جو اب مکمل طور پر ڈوب گئی۔ بعض افغان شہری اپنی گاڑیاں بھی ساتھ لے گئے جس سے نقصانات میں مزید اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان اکرم راجہ نے استعفے کی وجوہات بتانے سے گریز کیا، صحافیوں کے سوالات پر کیا کہا؟
ذرائع کے مطابق افغان باشندوں نے حکومت کی جانب سے دی گئی واپسی کی ڈیڈلائن کا فائدہ اٹھایا اور راتوں رات سامان سمیٹ کر بغیر اطلاع افغانستان روانہ ہو گئے۔ متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ اچانک انخلا سے انہیں شدید مالی نقصان پہنچا ہے اور ان کی دہائی سننے والا کوئی نہیں۔




