راجہ فاروق حیدر

لیگی صدر کی چوہدری ریاض سے ملاقات پر فارق حیدر اور شاہ غلام قادر کی لفظی جنگ

مظفر آباد (کشمیر ڈیجیٹل ) آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے شاہ غلام قادر کیی چوہدری ریاض سے ملاقات پر شدید ردعمل دیا ہے جس پر شاہ غلام قادر نے بھی راجہ فاروق حیدر کو اعلامیہ دوبارہ پڑھنے کا مشورہ دیا ہے ۔ ن لیگ کے دو بڑے رہنماٸوں کی لفظی جنگ نے سوشل میڈیا کو گرما دیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق (ن )لیگ آزاد جموں و کشمیر کے مرکزی رہنما راجہ فاروق حیدرنے کہا ہے کہ آئین کی روح سے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف مشاورت سے نام بھیجنے کے پابند ہیں حتمی فیصلہ چیئرمین کشمیر کونسل نے کرنا ہے ۔

آئین میں سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا کوئی ذکر نہیں ۔ جماعت کے صدر کو آئینی معاملات میں مشورہ کرنے کے بعد بیان جاری کرنا چا ہیے چیئرمین کونسل کا فیصلہ ہی حتمی تصور ہوگا ۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) آزادکشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے آج اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما چوہدری محمد ریاض سے ملاقات کی جس میں آزادکشمیر کی مجموعی سیاسی صورت حال پر تفصیلی گفتگو کی گئی ۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آزادکشمیر میں چیف الیکشن کمشنر سمیت دیگر کلیدی اور آئینی عہدوں پر تقرریاں اگر دونوں بڑی پارلیمانی جماعتوں کی مشاورت کے بغیر کی گئیں تو انہیں ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا ۔ اس حوالے سے دونوں جماعتیں مشترکہ ردعمل کے طور پر لائحہ عمل طے کریں گی ۔

اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں دونوں رہنماؤں نے واضح کیا کہ آزادکشمیر کے آئندہ عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) آزادکشمیر کسی بھی حلقے میں مشترکہ امیدوار کھڑا نہیں کریں گی بلکہ ہر حلقے میں دونوں جماعتیں اپنے اپنے اُمیدوار میدان میں اتاریں گی ۔

ن لیگ کے دو بڑے رہنماٸوں کی لفظی جنگ نے سوشل میڈیا کو گرما دیا ہے ۔  سوشل میڈیا صارفین نے دونوں لیگی رینماؤن کی لفظی جنگ پر اس امر کا اظہار کیا ہے کہ ن لیگ کی اندرونی جنگ جاری رہی تو آئندہ انتخابات میں ان کی حکمت عملی کیا ہو گی؟

Scroll to Top