(کشمیر ڈیجیٹل)ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کو ارسال کردہ ایک اہم خط میں جینرک ادویات کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے فروغ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کی بچت ممکن ہے۔
خط میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر صرف جینرک نام سے ادویات تجویز کی جائیں تو مہنگی برانڈڈ ادویات کی جگہ کم قیمت اور موثر متبادل سے نہ صرف اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ قومی سطح پر بڑی بچت بھی کی جا سکتی ہے۔ ادارے نے تجویز دی ہے کہ دوا کی خریداری ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی منظور شدہ فہرست سے کی جائے اور کم قیمت طریقہ کار کو اپنایا جائے تاکہ حکومتی اخراجات میں کمی واقع ہو۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق جینرک ادویات کی قیمتیں برانڈڈ ادویات کے مقابلے میں پانچ گنا تک کم ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایسپرین 300 ملی گرام کی قیمت مختلف کمپنیوں میں 80 سے 150 روپے کے درمیان ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ تاحال ڈاکٹروں کی جانب سے جینرک نام سے دوا تجویز کرنے کی پالیسی پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا، جو ایک تشویشناک امر ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈریپ کی رجسٹرڈ ادویات کا معیار اور قیمت پہلے ہی سے منظور شدہ ہوتی ہے، اس لیے مہنگی اور غیر ضروری برانڈڈ دوا کی خریداری سے اجتناب برتا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: روس سے تیل خریدنے پر چین پر بھی اضافی ٹیرف لگ سکتے ہیں: صدر ٹرمپ
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیراعظم آفس اور پیپرا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کروائیں کیونکہ جینرک ادویات کا فروغ نہ صرف عوامی مفاد میں ہے بلکہ قومی معیشت کے استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔



