زاہد حسین شہید میموریل پبلک سکول کے زیراہتمام تعزیتی ریفرنس،طاہر راٹھور کو خراج تحسین پیش

حویلی کہوٹہ ( کشمیر ڈیجیٹل رپورٹ : سید سعد بخاری)راجہ طاہر محمود راٹھور صدر سکول منیجمنٹ کمیٹی زاہد حسین شہید میموریل پبلک سکول جلال آباد سولی گزشتہ دنوں نیلفری کے مقام پر ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں شہید ہونے والے راجہ طاہر محمود راٹھور کا تعزیتی ریفرنس زاہد حسین شہید میموریل سکول جلال آباد میں ہوا جس کی صدارت ظفر راٹھور والد مرحوم طاہر راٹھور نے کی ۔

ریفرنس کے مہمان خصوصی نوید انجم موسیٰ ڈی ایف او حویلی تھے تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت ادارہ ہذا کے طالب علم سید فرحان علی نے حاصل کی ۔

نعت رسول مقبول مہک فاطمہ، عروج طاہر راٹھور نے سعادت حاصل کی بعد ازاں نور فاطمہ اور اسکے ساتھیوں نے گل ہائے عقیدت حسین علیہ السلام پیش کیا گیا ۔

تعزیتی ریفرنس کے سٹیج سیکرٹری سید غلام احمد عرف شاہ جی نے سنبھالا اس تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہویئےمقررین نے کہا کہ طاہر مرحوم اپنے اندر ایک سمندر تھا ۔معاشرے کے وہ نوجوان جو آج بے راہ روی کا شکار ہیں وہ طاہر راٹھور کی زندگی سے سبق حاصل کریں۔

طاہر راٹھور ایک گاؤں کی حد تک معروف نہیں تھا نہ ہی کسی یوسی کی حد اور نہ ہی تحصیل تک تھا بلکہ پورے ڈسٹرکٹ کی ایک جانی پہچانی شخصیت تھی ۔

کہتے ہیں کہ کرادار اچھا ھو تو جنازے شاندار ہوا کرتے ہیں ہم نے بھی دیکھا الحمد اللہ ایک مثالی جنازہ تھا ۔مقررین کا کہنا تھا کہ طاہر کی شہادت جوانی میں ہوئی طاہر نام ایک احساس کا ھے ہمیں بھی ایک شخصیت بننا ہو گا ۔۔

اس مادیت کے دور میں نفسا نفسی کا عالم ھے ہمیں اس وقت عدم مساوات کے دور میں طاہر جیسی شخصیت پیدا کریں ہمیں اس آیت پر عمل پیرا ہونا ہو گا کہ خیر الناس من ینفع الناس ۔

مقررین نے طاہر مرحوم کے اوصاف حمیدہ بیان کرتے ہویے کہا کہ طاہر راٹھور معاشرے کا مثبت چہرہ تھا جسکے اندر برادری ازم کا تعصب نہیں تھا اس کی نہ ختم ہونے والی مسکراہٹ آخر دم تک اس کے ساتھ رہی ۔ خوشیاں بکھیرنے والا انسان تو چلا گیا لیکن اس کی یادیں زندگی بھر ہمارے دلوں میں رہیں گی ۔

طاہرراٹھور کے اساتذہ نے اس موقع پر کہا کہ طاہرراٹھور ایک اچھا طالب علم تھا اور ہمیں اچھے سے یاد ہے کہ جب بھی کوئی سکول میں مس ہیپ ہو جائے یا کوئی ناراض ھو جائے تو ہم طاہر راٹھورکو ہی ہم آگے کرتے تھے کہ یہ معاملہ سلجھا دو۔

مقررین کا کہنا تھا کہ اگر خصوصیات پر بات کی جائے تو وقت کے دامن میں اتنی وسعت نہیں ۔ڈی ایف او حویلی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدقہ جاریہ کے طور پر ہر شخص اگر طاہر راٹھور کے نام کا ایک ایک درخت لگا ئے تو یہ اس کی بھی مغفرت کا سبب بن سکتا ہے ۔

مقررین نے اس موقع پر کہا کہ ہم اس تعزیتی ریفرنس سے ان خواتین کو خراج عقیدت نہ پیش کریں تو یہ زیادتی ہو گی جنہوں نے نامساعد حالات ملکی تاریخ کا پہلا ریسکیو کیا جو نہتی خواتین نے کیا انہیں ہم خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔۔ان کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ایسی جگہ جہاں پر کھانے پینے کی چیزیں مشکل سے ملتی ہیں انہوں نے وہاں پر جا کر ان کو ریسکیو کیا۔۔

مقررین میں نوید انجم موسیٰ ڈی ایف او حویلی ، عبد المناف کیانی سید علی اصغر بخاری ، اریج فاطمہ ، سید ابرار حیدر شیرازی لوکل کونسلر ، حمید ایاز راٹھور ، عروج فاطمہ بیٹی مرحوم طاہر، سید نثار حیدر بخاری ، خرم عظیم راٹھور ایڈووکیٹ، راجہ الطاف راٹھور شیخ ارشد ، نبیل راٹھور وایس چءیر مین کالا مولا ، بلاول راٹھور چوہدری رفیق پرنسپل گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول جلال آباد ، سیدہ تسلیم فاطمہ بخاری تھے۔

مقرر ین نے زاہد حسین شہید میموریل سکول کے منیجنگ ڈائریکٹر مفتی سید ساجد خورشید بخاری اور ادارہ ہذا کے جملہ سٹاف ممبران کو خراج تحسین پیش کیا اور تعزیتی ریفرنس کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔

ریفرنس کے اختتام پر ملک پاکستان و آزاد کشمیر کے استحکام اور ترقی کے لیے دعا کی گئی اور فلسطین اور کشمیر کے مسلمان کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور ان کے شہداء کی بلندی درجات کے لیے دعا کی گئی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ہائیکورٹ آزادکشمیر:سابق وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم

Scroll to Top