مظفرآباد(ذوالفقار علی : کشمیر انوسٹی گیشن ٹیم)آڈیٹر جنرل کی آڈٹ رپورٹ برائے مالی سال 2024-25 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کونسل لاجز کو تکمیل کے بعد بھی استعمال میں نہ لانے، اور بجلی، گیس و رہائشگاہوں کے کرایے کے بھاری اخراجات کی وجہ سے حکومت کو چار کروڑ 30 لاکھ چارہزار روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
یہ آڈٹ جولائی 2018 سے جون 2021 کے درمیان کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کونسل سیکرٹریٹ کے زیرِ انتظام تعمیر شدہ لاجز مکمل ہونے کے باوجود استعمال میں نہیں لائے گئے، جب کہ عمارت میں بجلی اور گیس کے بلوں کی مد میں مسلسل ادائیگیاں کی جاتی رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، کونسل کے ملازمین کو الگ سے کرائے پر رہائش کی مد میں بھاری رقوم کی ادائیگیاں بھی جاری رہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ایک طرف عمارت خالی پڑی رہیں اور دوسری طرف اسی عمارت پر بجلی اور گیس کے بل باقاعدگی سے ادا کیے جاتے رہے۔ ساتھ ہی، رپورٹ کے مطابق فلیٹس نہ الاٹ کرنے کے باعث ملازمین کرائے کے گھروں میں رہے جس کے اخراجات حکومت کو اٹھانے پڑے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ فلیٹس متعلقہ ملازمین کو الاٹ کر دیے جاتے تو اس نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق، ان لاجز میں بجلی، گیس اور رہائشگاہوں کے کرایے کی مد میں ہونے والے اخراجات کی مجموعی رقم 43.04 ملین روپے بنتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ دسمبر 2020 اور فروری 2022 میں دو مرتبہ آڈٹ انسپکشن رپورٹس کے ذریعے متعلقہ محکمہ کے علم میں لایا گیا، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق، اگست 2024 میں بھی ایک ایڈوانس پیرا کے ذریعے محکمے کے سربراہ کو تحریری طور پر کارروائی کے لیے آگاہ کیا گیا، لیکن اس پر بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا اور نہ ہی محکمانہ آڈٹ کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا۔
آڈٹ رپورٹ میں حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ
43.04 ملین روپے کے نقصان کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔
یہ تجویز بھی دی گئی کہ لاجز کے فلیٹس فوری طور پر ملازمین کو الاٹ کیے جائیں اور
عمارت کے مؤثر اور مستقل استعمال کو یقینی بنایا جائے تاکہ مزید مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آزاد کشمیر کے آئین میں 13ویں ترمیم کے آرٹیکل 51 -اے کے تحت آزاد جموں و کشمیر کونسل سیکرٹریٹ کے تمام اثاثہ جات اور ملازمین کو حکومت آزاد کشمیر کو منتقل کیا جانا تھا۔ تاہم، 18 ستمبر 2018 کو حکومت پاکستان کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دے کر اس آئینی عمل درآمد کو روک دیا گیا۔
اس کے نتیجے میں، رپورٹ کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کونسل سیکرٹریٹ جولائی 2018 سے ایک غیر مؤثر، غیر فعال اور آئینی لحاظ سے غیرواضح ادارے کے طور پر موجود ہے۔
آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2023-2024 کے بجٹ کے مطابق کونسل سیکرٹریٹ میں:
91 جریدہ ملازمین
6 ممبران کونسل بورڈ
200 غیر جریدہ ملازمین
15 افسران اور 4 اہلکار، جو مختلف محکموں سے مستعار خدمات پر تعینات کیے گئے
78 کنٹیجنٹ اسٹاف
یہ تمام ملازمین باقاعدگی سے تنخواہیں وصول کرتے رہے، تاہم بعد میں ان ملازمین کی تعداد کم کر دی گئی۔
یہ اس بات سے عیاں ہے کہ پاکستان کی وزارت برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کے 29 جنوری 2024 کے نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد میں قائم اے جے کے کونسل سیکریٹریٹ میں 44 ملازمین شامل
35 مستقل
9 ڈیپوٹیشن پر برقرار رکھے گئے
جبکہ باقی 218 ملازمین —
140 مستقل
77 کنٹیجنٹ
1 کنٹریکٹ پر اے جے کے حکومت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
مزید دو نوٹیفکیشنز میں کہا گیا کہ کونسل کی سرمایہ کاری کی رقم، جو 815.975 ملین روپے پر مشتمل تھی، منافع سمیت اے جے کے حکومت کو منتقل کر دی گئی ہے۔
اسی طرح اسلام آباد میں واقع اے جے کے کونسل لاجز کی الاٹمنٹ، دیکھ بھال اور یوٹیلیٹی سے متعلق اختیارات (تین مخصوص تین بیڈ فلیٹس کے سوا) بھی اے جے کے حکومت کو دے دیئے گئے ۔
جون 2018 میں آزاد کشمیر کی حکومت نے 13ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کونسل سے انتظامی، قانون سازی اور مالیاتی اختیارات واپس لے لیے، جس کے نتیجے میں:
ان لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ
اکاؤٹنٹ جنرل کا دفتر
آڈٹ فنڈز
کشمیر کنونسل کا کنٹرول اے جے کے حکومت کو منتقل کر دیا گیا، اور کونسل سیکریٹریٹ کے ترقیاتی ونگ کو بھی ختم کر دیا گیا۔
آزاد جموں و کشمیر کونسل کے اراکین کا کہنا ہے کہ کونسل لاجز کے پی سی-I کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صرف منتخب اراکین اور کونسل کے ملازمین ہی وہاں رہائش کے مجاز ہیں، لیکن تین فلیٹس وزیراعظم پاکستان، وزیر و سیکریٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون کی خلاف ورزی ہے کیوںکہ ان تینوں کے پاس ایک کلومیٹر کے اندر وفاقی حکومت کی رہائشگاہیں موجود ہیں، اور قانون کے مطابق کوئی عوامی عہدیدار دو سرکاری رہائشیں بیک وقت نہیں رکھ سکتا۔
آزادکشمیر:بالائی علاقوں میں شدید بارشیں، دریائے جہلم میں اونچے درجے کا سیلاب،ایمرجنسی نافذ




