آسمان پر ایرانی میزائل، لب پر دعائیں: تہران سے آنیوالے پاکستانیوں کی دردناک داستان

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل ) سینکڑوں پاکستانی زائرین، طلباء اور کارکنان اس ہفتے بالآخر ایران سے اپنے وطن واپس پہنچ گئے۔ جیسا کہ اسرائیل-ایران تنازعے نے خطے کو وسیع جنگ کے دہانے پر دھکیل دیا ہے تو واپس آنے والے پاکستانیوں نے سڑکوں پر کشیدہ صورتِ حال، بے خواب راتوں اور رات کی تاریکی میں سروں پر چمکتے میزائلوں کی کہانیاں سنائیں۔

العربیہ رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف 13 جون کو شروع ہونے والے اسرائیلی فضائی اور میزائل حملوں میں ایک ہفتے میں ایران کی فوجی کمان کا صفایا ہو گیا، اس کی جوہری صلاحیتوں کو نقصان پہنچا اور سینکڑوں لوگ ہلاک ہو گئے جبکہ ایران کے جوابی حملوں میں اسرائیل میں دو درجن شہری ہلاک ہوئے۔

جمعے کے حملوں کے فوراً بعد ایران نے اپنی فضائی حدود تجارتی پروازوں کے لیے بند کر دیں جس سے پاکستانی زائرین، طلباء اور کارکنان سمیت سینکڑوں تارکینِ وطن پھنس کر رہ گئے۔

قم میں المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے ایک 22 سالہ طالب علم حسن رضا کے نزدیک فضائی حدود کی بندش سے ایک عام دن گویا ایک بھاگ دوڑ میں بدل گیا اور انہیں جنگ کے شکار ملک کے قلب سے واپسی کا سفر اختیار کرنا پڑا۔

رضا نے بدھ کے روز عرب نیوز کو ایک ٹیلی فون انٹرویو میں بتایا کہ جب 13 جون کو اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو وہ تہران انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تھے جب چند لمحوں کے بعد تمام پروازیں منسوخ کر دی گئیں اور وہ سڑک کے راستے رمدان کی سرحد سے پاکستان میں داخل ہوئے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان 909 کلومیٹر (565 میل) طویل سرحد ہے جو بلوچستان کو ایرانی صوبے سیستان-بلوچستان سے الگ کرتی ہے۔

ہوائی جہاز کے ٹکٹ ترک کرنے پر مجبور رضا جیسے کئی پھنسے ہوئے پاکستانیوں نے بس کے ذریعے سفر کرنے کے لیے وسائل جمع کیے اور تہران سے جنوب کی طرف رمدان کے مقام پر دور دراز سرحد کی طرف روانہ ہو گئے۔

بس کا سفر رضا اور اس کے گروپ کو نطنز سے آگے لے گیا جو دنیا میں ایران کی یورینیم افزودگی کی اہم تنصیبات کے طور پر معروف ہے اور جمعہ کے بعد سے بار بار اسرائیلی حملوں کا ایک اہم ہدف رہا ہے۔

رضا نے کہا، “ہم نطنز کے پاس سے گذرے جو ایران میں ایک جوہری پاور پلانٹ ہے اور اسے اسرائیل نے متعدد بار نشانہ بنایا ۔

سفر کے دوران انہوں نے ایران سے داغے گئے جوابی میزائلوں کی چمک اور قوسیں بچشمِ خود دیکھیں۔

انہوں نے کہا، “ہم نے دیکھا کہ ایران سے اسرائیل کی طرف کئی میزائل داغے گئے اور ان کی ویڈیو بھی بنائی۔ 20 سے 22 گھنٹے کے بعد ہم رمدان سرحدی گذرگاہ پر پہنچے اور پاکستان میں داخل ہوئے۔”

رضا نے مزید کہا، سڑک کے سفر میں دور میزائلوں کے تبادلے کی بازگشت کے باوجود روزمرہ کی زندگی غیر معمولی طور پر پرسکون نظر آتی تھی۔

“بر وقت پہنچ گئے”
صوبہ پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والے ایک زائر سید ندیم عباس شیرازی شیعہ مسلمانوں کے مقدس شہر مشہد میں زیارت کے لیے گئے تھے جب اس حملے سے علاقے کو غیر یقینی صورتِ حال پیش آ گئی۔

شیرازی نے کہا، “جب ایران پر حملہ ہوا تو میں مشہد میں تھا۔ ہم نے باہر جا کر مقامی لوگوں سے بات چیت کی اور ان میں خوف کے کوئی آثار نہیں تھے۔ درحقیقت وہ بہت جذباتی تھے۔ وہ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور کئی لوگوں نے کہا کہ انہیں شہادت کا کوئی خوف نہیں تھا، انہیں اس کی خواہش تھی۔”

حالات کشیدہ ہونے پر شیرازی اور ان کے گروپ نے پروازوں کے دوبارہ شروع ہونے کا انتظار کرنے کی بجائے سڑک کے ذریعے واپس آنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا، “مشہد سے ہم دوپہر ایک بجے بس میں سوار ہوئے اور اگلے دن دوپہر کو چابہار پہنچے۔”

اس کے بعد گروپ نے گوادر کے قریب پاکستان کی سرحد تک آخری سفر کے لیے ٹیکسی کرائے پر لی۔

تہران کے قریب کام کرنے والے لیہ کے ایک الیکٹریشن سید علی حسن نے کہا کہ جب جمعہ کو حملے شروع ہوئے تو انہوں نے فوری طور پر ماحول میں تبدیلی محسوس کی۔

انہوں نے کہا، “لوگ سرِ عام گھبراہٹ کا شکار نہیں لگتے تھے لیکن فضا میں خوف محسوس ہوتا تھا، ہر کوئی بدترین حالات کے لیے تیاری کرتا نظر آتا تھا۔”

خاموش خوف کے درمیان حسن اور چند دوسرے پاکستانیوں کو صوبہ بلوچستان میں تفتان سرحد کی طرف لے جانے والی ایک بس ملی۔

انہوں نے کہا، “سفر آسان نہیں تھا۔ شاہراہیں گاڑیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں، پٹرول سٹیشنوں پر لمبی قطاریں تھیں اور ہم نے تمام رات زیادہ تر خاموشی سے مختصر سٹاپس کے ساتھ سفر کیا۔”

بعض مسافر ممکنہ فضائی حملوں یا راستے میں رکاوٹوں کے بارے میں فکر مند تھے لیکن یہ گروپ بغیر کسی واقعے کے سرحد تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔

تفتان میں جب تھکے ماندے اور جذباتی طور پر پریشان پاکستانیوں نے اپنی سرزمین پر قدم رکھا تو سکون کا سانس لیا۔

حسن نے کہا، “ایسا لگا کہ ہم بر وقت وطن واپس پہنچ گئے۔”

ٹرمپ موبائل کی انٹری ، نئی سروس پر تنازع، کئی سوالات کھڑے ہو گئے

Scroll to Top