مظفر آباد :سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر نے ایڈہاک ملازمین کوفارغ یا مستقل کرنے سے متعلق حکومتی قانون سازی کیخلاف دائر درخواست خارج کرتے ہوئے آزاد کشمیر ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس راجہ سعید اکرم اور جسٹس رضا علی خان پر مشتمل بینچ نے سماعت مکمل کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قانون بنانا اسمبلی کا کام ہے، حکومت کسی بھی قسم کی قانون سازی کا حق رکھتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں2021میں اس وقت کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے5 سال قبل کے ایڈہاک ملازمین کو مستقل کرنے کا اعلان کیا تھا ۔
فاروق حیدرکے اعلان پر بیوروکریسی اور کلرک مافیا نے کمال ہوشیاری دکھاتے ہوئے پہلے روز بھرتی ہونیوالے ملازمین کو مستقل کردیا تھا جن میں گریڈ17کے ملازمین بھی شامل تھے۔
الیکشن میں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے ن لیگ کے دورکا ایکٹ ختم کردیااورکچھ ملازمین کی مستقلی اور کچھ کو فارغ کرنے کیلئے وزیر تعلیم دیوان چغتائی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی ۔
اپریل 2023 میں وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی حکومت ختم ہو گئی تو پھر ایڈہاک ملازمین نے اپنے مستقلی کے حق کیلئے احتجاجی تحریک چلائی اور اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے اور دھرنا دیا۔
حکومت نے یکم اکتوبر 2024 کو ایڈہاک ملازمین سے وعدہ کیا گیا کہ 45 ایام کے اندر قانون سازی کر دی جائیگی جس پر سرمد الیاس نامی شخص نے ہائیکورٹ رجسٹری برانچ میرپور سے سٹے لیا۔
کیس کی پیروی حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل جبکہ ایڈہاک ملازمین کی طرف سے سردار یعقوب مغل ایڈووکیٹ نے کی ۔11 دسمبر 2024 کو ہائی کورٹ نے حکم امتناعی خارج کر دیا۔
جنوری 2025 کو سرمد الیاس نامی شخص نے سپریم کورٹ رجسٹری برانچ میرپور سے رجوع کرتے ہوئے اپیل دائر کر دی سپریم کورٹ نے سٹے آرڈر تو نہ دیا البتہ کیس چلتا رہا۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ اور جسٹس رضا علی خان پر مشتمل بینچ نے رٹ 20 مئی 2025 کو خارج کر دی ہے۔
چیف جسٹس نے رٹ خارج کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ قانون سازی کرنا اسمبلی کا کام ہے حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی قانون سازی کر سکتی ہے۔
سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے فیصلے کے بعد ایڈہاک ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ اب حکومت کے لئے قانون سازی میں کوئی رکاوٹ نہ ہے لہذا فوری مستقل کیاجائے۔
اب حکومت کی طرف سے کونسے ملازمین کومستقل کیا جاتا ہے اور کون سے ملازمین کو فارغ کیا جاتا ہے یہ آنیوالا وقت بتائے گا لیکن ایک رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ آزادکشمیر، سابق وزیر قانون علی محمدچاچا کے قاتلوں کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا




