حماس خاتمے، یہودی آبادکاری کے حامی گادی آئزنکوت اسرائیلی حکومت بنانے کیلئے نامزد

اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے بڑے سیاسی حریف اور سابق آرمی چیف گادی آئزنکوت کو نئی حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔ صدر آئزک ہرزوگ کے ترجمان نے کہا کہ صدر نے گادی آئزنکوت کو صدارتی رہائش گاہ پر مدعو کیا ہے جہاں انہیں حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔

 اسرائیل میں صدر کا کردار زیادہ تر رسمی نوعیت کا ہے اور انتخابات کے بعد وہ کسی امیدوار کو اتحادی حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل سے تعلقات ،ایران جنگ شکست کا سبب،جے ڈی وینس

آئزنکوت نے ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا کہ اب قومی ہنگامی حکومت بنانے کا وقت ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے کہ وہ اس ذمہ داری کے اہل ثابت ہوں۔

66 سالہ گادی آئزن کوت مراکشی تارکینِ وطن کے بیٹے ہیں۔ اگر وہ وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوئے تو مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کی برادری’’ میزراحی ‘‘ سے تعلق رکھنے والے اسرائیل کے پہلے وزیراعظم ہوں گے۔

رائٹرز کے مطابق آئزن کوت کم گو اور میڈیا سے دور رہنے والی شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور انہوں نے 2022 میں سیاست میں قدم رکھا۔

حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد وہ مختصر عرصے کے لیے نیتن یاہو کی جنگی کابینہ کا حصہ رہے تاہم بعد میں اپوزیشن میں واپس چلے گئے۔

اپوزیشن میں رہتے ہوئے انہوں نے غزہ میں فوجی کارروائیوں سمیت مختلف معاملات پر نیتن یاہو کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے ساتھ حکومت میں شامل نہ ہونے کا عہد کیا۔

 2023 کے بعد غزہ میں لڑائی کے دوران آئزن کوت کے ایک بیٹے اور 2 بھتیجوں کی ہلاکت نے بھی ان کی ذاتی زندگی کو متاثر کیا۔

حماس کے خاتمے کا عزم

آئزنکوت نے انتخابی مہم کے دوران وعدے کیے کہ اگر وہ وزیرِ اعظم بنتے ہیں تو 18 ماہ کے اندر حماس کی حکومت اور اس کے فوجی ونگ کا مکمل خاتمہ کر دیں گے۔

اس کے لیے وہ یا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے (جس میں حماس کو غیر مسلح کرنا شامل ہے) پر عمل کریں گے یا پھر سخت فوجی آپریشنز کا سہارا لیں گے۔

ان کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو کی ناقص حکمتِ عملی کی وجہ سے حماس اقتدار میں برقرار ہے۔

یاد رہے کہ آئزنکوت کو فوجی حلقوں میں ’داحیہ ڈاکٹرائن‘ کا بانی مانا جاتا ہے جس کو انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی نمایاں طور پر پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں:انجلینا جولی نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ غزہ کی جانب مبذول کرا دی

 اس نظریے کے تحت وہ ’دشمن‘ کے حملے کے جواب میں بے پناہ اور غیر متناسب فوجی طاقت استعمال کرنے اور شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کی وکالت کرتے ہیں۔

انہوں نے 2006 میں لبنان کے خلاف اسرائیلی جنگ کے دوران حزب اللہ کے خلاف فوجی کمانڈر کی حیثیت سے یہ حکمت عملی استعمال کی تھی اور اسی سوچ کے تابع وہ غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں کی بھی مکمل حمایت کی ہے۔

مغربی کنارے پر یہودی آبادکاری کی حمایت

نامزد وزیر اعظم دریائے اردن سے بحیرہ روم کے درمیان تمام علاقے پر اسرائیل کے حتمی فوجی و سیکورٹی کنٹرول کو برقرار رکھنے کے حامی ہیں۔

وہ مغربی کنارے کے اسرائیل سے ’مکمل الحاق‘ کے خلاف ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اگر اسرائیل نے مغربی کنارے کے تمام فلسطینیوں پر مستقل کنٹرول رکھا تو اسرائیل ایک ’دو قومی ریاست‘ بن جائے گا، جو ان کے بقول ’صیہونی ریاست کے وژن‘ کے خلاف ہے۔

اسی لیے وہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو الگ تھلگ کر کے ’فلسطینی اتھارٹی‘ بنانے کی بات کرتے ہیں جسے صرف سول انتظامی امور سنبھالنے دیے جائیں، جبکہ بیرونی اور سیکورٹی کنٹرول مکمل طور پر اسرائیل کے پاس رہے۔