بھمبر ( کشمیر ڈیجیٹل) یوم شہدائے جموں 6 نومبر کی مناسبت سے یادگار شہداء کلری اکبرآباد میں پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں صدر آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب خان، سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق، سابق صدر و وزیراعظم سردار محمد یعقوب خان، سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان ، سردار عتیق احمد خان سمیت سیاسی، سماجی، عسکری اور عوامی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب میں تحریک آزادی پاکستان و کشمیر کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
تقریب کا اہتمام لیفٹیننٹ جنرل (ر) راجہ شیر افگن خان نے کیا۔ یادگار شہداء پر 1947 سے اب تک خطہ آزاد کشمیر کے تقریباً 5 ہزار شہداء کے نام درج ہیں۔ یادگار کی تعمیر کو شہداء کی قربانیوں اور تاریخ کو محفوظ کرنے کے حوالے سے اہم اقدام قرار دیا گیا۔
اس موقع پر صدر ریاست ڈاکٹر محمد نجیب خان نے یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور شہداء کے درجات کی بلندی، مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی اور تحریک آزادی کی کامیابی کیلئے دعا کی۔ پولیس کے چاک و چوبند دستے نے صدر ریاست کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔
تقریب میں سابق وزیر حکومت فرزانہ یعقوب، سابق وزیر سردار فاروق سکندر، میجر جنرل (ر) شاہد پرویز، میجر جنرل (ر) قیصر عباس، بریگیڈیئر ظفر محمود، سابق ڈائریکٹر جنرل اطلاعات راجہ اظہر اقبال خان، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بھمبر ڈاکٹر محمد اشتیاق، ڈپٹی کمشنر بھمبر سردار فیصل مغل، ڈپٹی کمشنر میرپور عمران نقوی، ایس پی راجہ ندیم عارف، ایس پی خرم اقبال اور سینئر صحافی راجہ حبیب اللہ خان سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام شریک ہوئے۔
شہداء کے لواحقین، ڈاکٹرز، افسران، وکلاء، صحافیوں، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد بھی تقریب میں موجود تھی۔ آرمی پبلک اسکول کلری کے طلباء و طالبات نے ملی نغمے پیش کئے۔
شہدائے جموں کی قربانیاں قومی تاریخ کا روشن باب ہیں، صدر آزاد کشمیر
صدر آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہدائے جموں کی لازوال قربانیاں ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ نئی نسل کو اپنے آبا و اجداد کی قربانیوں، جدوجہد اور تحریک آزادی کشمیر کی تاریخ سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سول اور مسلح افواج کے شہداء کی قربانیوں کی بدولت آج ہم آزادی کی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ تحریک آزادی پاکستان، تحریک آزادی کشمیر اور 6 نومبر 1947 کے شہداء سمیت تمام شہداء کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔
صدر ریاست نے یادگار شہداء کی تعمیر پر لیفٹیننٹ جنرل (ر) راجہ شیر افگن خان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہداء کی یادگاریں محض عمارتیں نہیں بلکہ ہماری تاریخ، قومی تشخص اور آنے والی نسلوں کے لیے قربانی و ایثار کا پیغام ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق بھی شہیدوں اور غازیوں کی دھرتی پونچھ سے ہے، جہاں پاکستانی پرچم میں لپٹے شہداء کی قبریں موجود ہیں۔ اس سرزمین نے تحریک آزادی کشمیر اور پاکستان کے دفاع کیلئے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
ڈاکٹر محمد نجیب خان نے کہا کہ ایک لاکھ کے قریب کشمیری نوجوان پاک فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جو کشمیری عوام اور افواج پاکستان کے درمیان محبت، وابستگی اور قربانی کے مضبوط رشتے کا ثبوت ہے۔
انہوں نے آرمی پبلک سکول کلری کے قیام اور تعلیمی خدمات پر لیفٹیننٹ جنرل (ر) شیر افگن خان اور اسکول انتظامیہ کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
شہداء کی یادگاریں قابل تقلید مثال ہیں،سپیکر اسمبلی طارق فاروق
سپیکر آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے شہداء کی لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے یادگار شہداء کی تعمیر پر لیفٹیننٹ جنرل (ر) شیر افگن خان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہداء کی یاد میں ایسی یادگاروں کا قیام قابل تقلید مثال ہے۔
چوہدری طارق فاروق نے کلری اور خطہ آزاد کشمیر کی تاریخی، جغرافیائی اور دفاعی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ تحریک آزادی پاکستان اور کشمیر میں ہمارے آبا و اجداد نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہمیں اپنی تاریخ اور ان قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے اپنی منزل پاکستان کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔
شہداء کی قربانیوں کو نئی نسل تک پہنچانا ضروری ہے، میزبان تقریب
تقریب کے میزبان لیفٹیننٹ جنرل (ر) راجہ شیر افگن خان نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے آزادی کی قدر و قیمت، تحریک آزادی کشمیر کی تاریخ اور شہداء کی قربانیوں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے آزادی کے حصول کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور شہداء کی یادگار کی تعمیر کا مقصد ان کی تاریخ اور قربانیوں کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ہے۔
راجہ شیر افگن خان نے یادگار کی تعمیر میں سپیکر اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی خصوصی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے 1965 اور 1971 کی جنگوں میں خطہ آزاد کشمیر کے عوام کی قربانیوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
بیس کیمپ کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ ہے، سردار یعقوب خان
سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار محمد یعقوب خان نے شہدائے جموں کی لازوال قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو اپنے آبا و اجداد کی جدوجہد سے آگاہ کرنے کے لیے جنرل (ر) شیر افگن کی خدمات قابل تحسین ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور قید حریت رہنماؤں کو یقین دلاتے ہیں کہ بیس کیمپ کا بچہ بچہ ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کشمیر کے حوالے سے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے دوٹوک مؤقف کا بھی ذکر کیا۔
شہداء کی قربانیاں ہماری آزادی کا ثمر ہیں، سردار عتیق احمد خان
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے یادگار شہداء کی تعمیر کے لیے لیفٹیننٹ جنرل (ر) شیر افگن خان کی کاوشوں کو سراہا۔
انہوں نے تحریک آزادی پاکستان اور کشمیر کے شہداء و غازیوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم جن آزادیوں سے مستفید ہو رہے ہیں، وہ ہمارے بزرگوں کی عظیم قربانیوں کا ثمر ہیں۔
سردار عتیق احمد خان نے قیام پاکستان کے دوران قربانیوں کے تاریخی واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان قربانیوں کی تاریخ نئی نسل تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔
انہوں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دینے کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل، کشمیری عوام کے حق خودارادیت اور ریاست کی وحدت و تشخص کے تحفظ پر زور دیا۔
یادگار شہداء قومی تاریخ کا قیمتی اثاثہ ہے، راجہ فاروق حیدر خان
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے تحریک آزادی پاکستان اور کشمیر کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں ہماری قومی تاریخ کا قیمتی اثاثہ ہیں۔
انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت یادگار شہداء کی تعمیر پر لیفٹیننٹ جنرل (ر) شیر افگن خان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی یادگاریں نئی نسل کو اپنے اسلاف کی تاریخ اور قربانیوں سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
مثبت مکالمہ اور برداشت معاشرتی ضرورت ہے، سردار فاروق سکندر
سابق وزیر حکومت سردار فاروق سکندر نے شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یادگار شہداء کی تعمیر اور تقریب کے انعقاد پر جنرل شیر افگن کو مبارکباد دی۔
انہوں نے معاشرے میں مثبت مکالمے اور باہمی برداشت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے معاشرتی فاصلے بڑھ رہے ہیں، اس لیے اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔
تقریب کے اختتام پر مقررین نے شہدائے جموں، تحریک آزادی پاکستان و کشمیر اور سول و مسلح افواج کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔




