ہٹیاں بالا (کشمیر ڈیجیٹل/عمر بھٹی راجپوت)وزیر صحت آزاد کشمیر ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے تمام معاملات حل ہو چکے ہیں تو اب دھرنوں کا کیا جواز باقی رہ گیا ہے۔
وزیرصحت کا مزید کہنا تھا کہ راولاکوٹ میں بچوں کی تعلیم متاثر ہونے کا ذمہ دار ایکشن کمیٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی دکاندار ٹیکس نہیں دیتا بلکہ ٹیکس ملازمین ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کی قیادت کہہ رہی ہے کہ سرکار ہمارے ٹیکس پر چلتی ہے۔ طلبہ و طالبات ایسے لوگوں سے دور رہیں اور اپنی تعلیم اور مستقبل پر توجہ دیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:باغ:کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا دھرنا ختم، سڑکیں بحال، جتھا فرار
دوسری جانب وزیر صحت آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی کا دورہ ہٹیاں بالا، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر پہنچ گئے۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر جہلم ویلی عفت اعظم نے انہیں ضلع میں سرکاری اراضی، زمینوں کے ریکارڈ، مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص زمین اور بالخصوص ہٹیاں بالا میں یونیورسٹی کے قیام کیلئے مختص اراضی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ کے دوران زمین کی دستیابی، متعلقہ ریکارڈ اور اراضی سے متعلق انتظامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر صحت ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی نے سرکاری اراضی کے تحفظ، ریکارڈ کی درستگی اور عوامی مفاد کے منصوبوں کیلئے اراضی سے متعلق معاملات کو قواعد و ضوابط کے مطابق آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیر صحت ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی نے کہا کہ حکومت سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی کا کہنا تھا کہ تمام اداروں میں موجود خامیوں اور انتظامی کمزوریوں کو دور کرکے انہیں فعال اور مؤثر بنایا جائے گا۔
وزیرصحت آزادکشمیر نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ ضلع بھر کے تمام سرکاری اداروں کے باقاعدگی سے دورے کریں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سکول بند کرنا ، مریضوں کو ہسپتال جانے سے روکنا پرامن تحریک نہیں ،وزیراعظم کی کالعدم ایکشن کمیٹی پر کڑی تنقید
ڈپٹی کمشنرز اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور جہاں کہیں بھی کمی کوتاہی سامنے آئے، اسے فوری طور پر دور کرنے کیلئے ضروری اقدامات اٹھائیں
تاکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری اور عوامی مسائل کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جا سکے۔
اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ہٹیاں بالا کامران خان، افسر مال محمد عثمان اور تحصیلدار ممتاز عباسی بھی موجود تھے۔




