برطانیہ کا نیا امیگریشن نظام: مستقل رہائش کی مدت 10 سال کرنے کا باضابطہ اعلان

لندن: برطانوی حکومت نے ملک میں تارکین وطن کے لیے مستقل رہائش حاصل کرنے کی بنیادی مدت کو موجودہ 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے اس نئے امیگریشن سسٹم کی تصدیق کرتے ہوئے اس سے متعلق تمام اہم امور اور تفصیلات میڈیا کے سامنے پیش کر دی ہیں۔

روئٹرز کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں بعض تارکین وطن کو مستقل رہائش کی حاصلابی کے لیے طویل انتظار کی شرط سے استثنیٰ فراہم کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر تمام عمومی تارکین وطن کے لیے یہ مدت 10 سال طے کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سے گزشتہ برس ہی انڈیفینیٹ لیو ٹو ریمین (آئی ایل آر) یعنی مستقل رہائش کے لیے درکار روایتی 5 سالہ مدت کو بڑھا کر 10 سال تک کرنے کی تجویز سامنے لائی گئی تھی۔

کیئر ورکرز اور شعبہ صحت کے لیے رعایت:

ابتدائی طور پر کم اجرت حاصل کرنے والے ہیلتھ اور سوشل کیئر سیکٹر کے کارکنان کے لیے 15 برس تک انتظار کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ تاہم، لیبر پارٹی کے اندرونی تحفظات اور شدید سیاسی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کیئر ورکرز کو اس شرط میں خصوصی رعایت دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں پناہ گزینوں کیلیے پروگرام، پاکستان بھی اہل ممالک میں شامل!

ان نئی امیگریشن اصلاحات کے تحت شعبہ صحت سے منسلک تمام کارکنان 5 سال کا عرصہ مکمل ہونے کے بعد ہی مستقل رہائش کے لیے اپنی درخواست جمع کروانے کے اہل ہوں گے۔ البتہ ان افراد کو دیگر ضوابط بھی لازمی پورے کرنے ہوں گے، جن میں انگریزی زبان پر بہتر مہارت، مکمل صاف مجرمانہ ریکارڈ اور نیشنل انشورنس کے نظام میں باقاعدہ مالی شراکت داری شامل ہے۔

زیادہ آمدن اور غیر قانونی آمد پر قواعد:

حکومتی حکام کے مطابق زیادہ تر غیر ملکی مقیم افراد کے لیے مستقل رہائش کی بنيادی مدت 10 سال ہی رہے گی، تاہم زیادہ آمدنی والے افراد اور چند مخصوص شعبوں سے وابستہ افراد کے لیے اس مقررہ مدت میں مزید کمی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ 1 لاکھ 25 ہزار پاؤنڈ سے زائد سالانہ آمدن والے افراد محض 3 سال کی مدت میں بھی مستقل رہائش حاصل کرنے کی اہلیت رکھ سکیں گے۔

دوسری جانب غیر قانونی راستوں بالخصوص چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ کی حدود میں داخل ہونے والے افراد کے لیے مستقل رہائش کا یہ انتظار 30 سال تک طویل ہو سکتا ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق ان نئی تبدیلیوں کی وجہ سے 2021 کے بعد برطانیہ پہنچنے والے تقریباً 5 لاکھ تارکین وطن 2030 تک آئی ایل آر کے اہل نہیں ہو سکیں گے، جبکہ اسی دوران تقریباً 14 لاکھ افراد نئی شرائط کے تحت مستقل رہائش حاصل کرنے کی اہلیت برقرار رکھیں گے۔

وزیر داخلہ شبانہ محمود کا بیان:

برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے حکومت کی اس نئی امیگریشن پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جو افراد ملک اور قومی معیشت میں زیادہ مثبت کردار ادا کریں گے، انہیں جلد مستقل رہائش کا حق مل سکے گا۔ اس کے برعکس ملکی قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث افراد کو یا تو طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑے گا یا پھر ان کی درخواستیں مکمل طور پر مسترد کر دی جائیں گی۔