یورپ کے مختلف ممالک میں گروسری سٹورز پیر کو ایک مشتبہ سائبر حملے سے متاثر ہوئے جس نے ان کے فریزر اور ریفریجریشن سسٹمز کو نشانہ بنایا۔ یورپی یونین نے اس واقعے کو غذائی سپلائی چین میں خلل ڈالنے کی دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سویڈن سے لے کر پرتگال تک کم از کم آٹھ ممالک کے سپر مارکیٹس متاثر ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل بینکنگ اور سائبر کرائمز: نہ پن کوڈ مانگا نہ کارڈ چھینا، پھر بھی بینک اکاؤنٹ خالی ہونے کا خدشہ
ان میں بیلجیئم، ایسٹونیا، فن لینڈ، آئرلینڈ، لکسمبرگ اور نیدرلینڈز شامل ہیں۔ یہ واقعہ فرانس میں تین ہفتے قبل ہونے والے ایک سائبر حملے کے بعد پیش آیا ہے جس نے بڑی گروسری چینز کی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا تھا۔
ریفریجریشن سسٹمز کے درجہ حرارت میں راتوں رات اضافے کے باعث کئی فوڈ ریٹیلرز کو خراب ہونے والی یا خراب ہونے کے خطرے سے دوچار اشیائے خورونوش ضائع کرنا پڑیں۔
اب تک پیر کے حملے یا 12 اکتوبر کو فرانسیسی سپر مارکیٹس پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔
یورپی یونین کے خوراک اور زراعت کے کمشنر کرسٹوف ہینسن نے کہا کہ یورپی یونین ان واقعات کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ ان کے مطابق بار بار ہونے والے یہ سائبر حملے ’گہری تشویش‘ کا باعث ہیں۔
انہوں نے کہاکہ یہ ہماری غذائی سپلائی چین میں خلل ڈالنے اور صارفین کے اعتماد کو مجروح کرنے کی دانستہ کوشش ہے، جسے سنجیدگی سے لینا ہوگا۔
بیلجیئم میں متعدد گروسری چینز کے درجنوں سٹورز متاثر ہونے کے بعد وفاقی پراسیکیوٹرز نے تحقیقات کا آغاز کر دیا، اگرچہ انہوں نے فی الحال اسے باضابطہ طور پر سائبر حملہ قرار نہیں دیا۔
تاہم متاثرہ کمپنیوں کا مؤقف زیادہ واضح تھا۔ کیریفور بیلجیئم کے ترجمان مِش ورگاووین نے کہا کہ ’یہ سائبر حملہ ہے، اس کی کوئی اور وجہ نہیں ہو سکتی۔
ایک آئیکیا سٹور بھی متاثر ہوا جہاں پیر کی صبح فریزرز کا درجہ حرارت اچانک بڑھ گیا۔
بیلجیئم کی صنعتی ریفریجریشن کمپنی سبکوبیل کے مطابق فرانس میں 12 اکتوبر کے حملے کے بعد سسٹمز کو محفوظ بنانے کا کام شروع کیا گیا تھا، لیکن تقریباً 10 فیصد تنصیبات اب بھی اپ ڈیٹ نہیں ہو سکی تھیں اور انہی میں سے بعض متاثرہ سٹورز میں موجود تھیں۔
پرتگال میں موسکیتیروس گروپ نے تصدیق کی کہ انٹرمارشے کے سات سٹورز متاثر ہوئے۔ کمپنی کے مطابق حملہ بظاہر ایک بیرونی سروس فراہم کرنے والے ادارے کو نشانہ بنا کر کیا گیا جو ریفریجریشن سسٹمز کا انتظام کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ مسئلہ حل کر لیا گیا ہے اور فریج اور فریزر معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ اسٹورز جدید 5 جی کے بجائے 4 جی نیٹ ورک سے منسلک تھے، جس کی وجہ سے وہ ہیکرز کے لیے زیادہ کمزور ثابت ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:آئی فون پر 25 فیصد ڈسکاؤنٹ کا جھانسہ، سائبر سیکیورٹی کمپنی نے پاکستانیوں کو خبردار کر دیا
فن لینڈ میں بھی کچھ سٹورز میں غیر معمولی درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک کے ذریعے مداخلت کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
ایسٹونیا میں کم از کم ایک سپر مارکیٹ کے ریفریجریشن یونٹس کا درجہ حرارت مبینہ طور پر 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھا دیا گیا۔ مقامی ماہرین کے مطابق متاثرہ آلات ڈینش کمپنی ڈینفوس کے پرانے ماڈلز تھے، جنہیں فرانس میں ہونے والے سائبر حملے میں بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔




