ڈیجیٹل بینکنگ اور سائبر کرائمز: نہ پن کوڈ مانگا نہ کارڈ چھینا، پھر بھی بینک اکاؤنٹ خالی ہونے کا خدشہ

ڈیجیٹل بینکاری کے وسیع پھیلاؤ کے ساتھ سائبر جرائم پیشہ افراد نے چوری اور فراڈ کے بالکل نئے طریقے اختیار کر لیے ہیں جس سے صارفین کے اکاؤنٹس شدید خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ اب بغیر بٹوا چھینے، جیب کاٹے یا اے ٹی ایم کارڈ اور پن کوڈ حاصل کیے بھی بینک اکاؤنٹ سے رقم غائب ہونے کا اندیشہ موجود ہے۔

اس حوالے سے وائرلیس ٹیکنالوجی کے ممکنہ غلط استعمال، بینک کارڈز کی تفصیلات تک غیر مجاز رسائی اور صارفین کو دھوکے سے ذاتی معلومات فراہم کرنے پر مجبور کرنے کے طریقوں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم آصف اقبال چوہدری نے این ایف سی ڈیوائسز کے غلط استعمال کو ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے ماضی میں پیٹرول پمپس پر استعمال ہونے والی ریموٹ ڈیوائسز کا حوالہ بھی دیا جن کے ذریعے پیمائش میں ردوبدل کی شکایات ملتی تھیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ این ایف سی ٹیکنالوجی کس طرح کام کرتی ہے اور کیا واقعی کارڈ کو چھوئے بغیر رقم نکالی جا سکتی ہے۔

این ایف سی ٹیکنالوجی اور اس کی عملی صلاحیت:

نیئر فیلڈ کمیونیکیشن (این ایف سی) ایک ایسی وائرلیس ٹیکنالوجی ہے جو قریب موجود دو ڈیوائسز کے درمیان ڈیٹا کی منتقلی کو ممکن بناتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کنٹیکٹ لیس کریڈٹ و ڈیبٹ کارڈز اور موبائل فون سے کی جانے والی ادائیگیوں میں استعمال ہوتی ہے جس میں کارڈ ادائیگی کی مشین کے قریب لانے سے ہی ٹرانزیکشن مکمل ہو جاتی ہے۔ اگرچہ یہ طریقہ ادائیگی کو تیز بناتا ہے لیکن کارڈ کے ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم آصف اقبال چوہدری کے مطابق وائرلیس ڈیوائسز کی مدد سے پاس موجود کارڈز سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قسم کے خطرات امریکا کے بعد اب پاکستان میں بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے ایسی ڈیوائسز کی رینج ۱۰ فٹ تک ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم این ایف سی کی عمومی عملی رینج چند سینٹی میٹر ہوتی ہے، اس لیے ۱۰ فٹ کی دوری سے ڈیٹا حاصل کرنے کے دعوے کی تصدیق مخصوص ڈیوائس کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔

یہ بھی پڑھیں: چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے لیے اسٹیٹ بینک کا نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف

ٹریک ون اور ٹریک ٹو ڈیٹا اور سکیورٹی حد بندی:

آصف اقبال چوہدری نے بینک کارڈز کے ڈیٹا کے لیے ٹریک ون اور ٹریک ٹو جیسی اصطلاحات کا ذکر کیا اور صارفین کی غفلت کو بھی مالی نقصان کی بڑی وجہ قرار دیا۔ جو لوگ اپنے اکاؤنٹس کی باقاعدگی سے نگرانی نہیں کرتے یا ٹرانزیکشن الرٹس بند رکھتے ہیں، وہ اکثر چھوٹی چھوٹی متعدد ٹرانزیکشنز کے ذریعے بڑی رقم کے فراڈ سے بے خبر رہتے ہیں۔ تاہم کارڈ کی صرف بنیادی معلومات کا مل جانا ہی براہ راست رقم نکالنے کے لیے کافی نہیں ہوتا کیونکہ بینکوں کے سکیورٹی اصول اور تصدیقی مراحل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

سائبر سیکیورٹی ماہر نوید انجم نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی کے ذریعے کارڈ کا تمام حساس ڈیٹا حاصل کرنا ناممکن ہے۔ ان کے مطابق کارڈ نمبر اور ایکسپائری ڈیٹ جیسی معلومات تو منتقل ہو سکتی ہیں لیکن سی وی وی نمبر اور پن کوڈ اس وائرلیس نظام کے ذریعے منتقل نہیں ہوتے۔ صرف کارڈ نمبر یا ایکسپائری ڈیٹ ملنے کا مطلب رقم نکل جانا نہیں ہے، کیونکہ ادائیگی کے لیے اضافی تصدیق، بائیومیٹرک یا ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) کی ضرورت پڑتی ہے۔

سوشل انجینئرنگ اور انسانی نفسیات کا استعمال:

سائبر مجرم صرف جدید ٹیکنالوجی پر انحصار نہیں کرتے بلکہ وہ سوشل انجینئرنگ کا سہارا لے کر صارفین کو دھوکا دیتے ہیں۔ اس کے تحت وہ خود کو بینک، ایف آئی اے یا کسی دیگر سرکاری ادارے کا نمائندہ ظاہر کر کے لوگوں سے مزید ذاتی تفصیلات مانگتے ہیں۔ کارڈ کی بنیادی معلومات پہلے سے موجود ہونے کی صورت میں، مجرم شناختی کارڈ نمبر، گھر کا پتا اور نادرا کا ڈیٹا حاصل کر کے شہری کا اعتماد جیت لیتے ہیں اور اسے خبر بھی نہیں ہوتی کہ وہ فراڈ کا شکار ہو رہا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر نوید انجم نے اسلام آباد کے ڈی ایچ اے کے ایک شہری کا واقعہ بیان کیا جس کے اکاؤنٹ میں ۴ کروڑ روپے موجود تھے۔ مجرموں نے پہلے کارڈ کا ڈیٹا حاصل کیا اور پھر خود کو فوجی افسر ظاہر کر کے کال کی۔ انہوں نے شہری کی پہلے سے موجود معلومات بتا کر اس کا اعتماد حاصل کیا اور پھر والدہ کا نام، شناختی کارڈ اور پتا معلوم کر کے بینکنگ ایپ کے ذریعے ۱ کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن کرلی۔ اگرچہ اس واقعے کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ انسانی نفسیات کو کیسے نشانہ بنایا جاتا ہے۔

حفاظتی تدابیر اور ماہرین کی ہدایات:

ڈی جی پی ٹی اے سائبر سیکیورٹی مکرم خان نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنا سی وی وی نمبر کسی سے شیئر نہ کریں اور مشکوک کالز یا پیغامات پر بالکل اعتبار نہ کریں۔ انہوں نے بائیومیٹرک تصدیق اور ٹو فیکٹر آتھینٹیکیشن کو فعال رکھنے، باقاعدگی سے اکاؤنٹ کا جائزہ لینے اور کسی بھی غير مجاز ٹرانزیکشن کی صورت میں فوری طور پر بینک سے رابطہ کر کے انشورنس یا کلیم پالیسی کے تحت ازالے کی کوشش کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق صارفین اپنے فون کا این ایف سی فیچر صرف ضرورت کے وقت آن کریں اور ریئل ٹائم ٹرانزیکشن الرٹس لازمی فعال رکھیں۔ کسی بھی نامعلوم ادائیگی کا پیغام ملنے پر فوراً بینک سے رابطہ کریں یا ایپ کے ذریعے کارڈ بلاک کریں۔ آن لائن خریداری صرف ان سائٹس سے کریں جن کے یو آر ایل میں ایچ ٹی ٹی پی ایس موجود ہو اور ان کی اصلیت کی تصدیق ہو چکی ہو۔ اس کے علاوہ آر ایف آئی ڈی پروٹیکشن والے والٹس کا استعمال بھی وائرلیس سگنلز کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، تاہم مکمل تحفظ کے لیے بیدار مغزی اور ذاتی تفصیلات کا تحفظ ہی سب سے اہم ہے۔