آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں ایڈہاک ریگولرائزیشن ایکٹ 2026ء کی نسبت دائر کی گئی رٹ پٹیشن پر سماعت کے دوران عدالت نے فریقین سے جواب طلب کر لیا ہے۔ ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر میں اس انتہائی اہم کیس کی سماعت چیف جسٹس ہائی کورٹ جناب جسٹس سردار لیاقت حسین شاہین اور سینئر جج جناب جسٹس سید شاہد بہار پر مشتمل ڈویژنل بنچ کر رہا ہے۔
اس حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے سینئر وکیل اور اس کیس کے کونسل ثاقب احمد عباسی نے بتایا کہ قیصر سلیم بنام آزاد حکومت، عامر سہیل بنام آزاد حکومت اور اس کے ساتھ تین سے چار کنیکٹڈ کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج کی کارروائی کے دوران بہت سارے پرائیویٹ فریقین نے دعوے جمع کرائے اور کچھ فریقین نے فریقِ مقدمہ بننے کے لیے درخواستیں جمع کروائیں، جس پر معزز ہائی کورٹ نے کیس کو اگلے بدھ تک فکس کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ جن فریقین کو باقاعدہ پارٹی بنایا گیا ہے، وہ اس دوران اپنے جوابِ دعوے جمع کرائیں۔
مقدمے کی فوری سماعت اور سپریم کورٹ کی ہدایات:
وکیل ثاقب احمد عباسی کے مطابق، معزز کورٹ نے آج یہ شارٹ آرڈر پاس کیا ہے کہ جوابِ دعوے جمع ہونے کے بعد پندرہ (15) دن کے اندر اس کیس کو روزانہ کی بنیاد پر (میرٹ پر) سماعت کر کے حتمی دلائل کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا، جس کے بعد آج کیس کی سماعت ایڈجسٹ ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول54پیسے،ہائی سپیڈ ڈیزل 2روپے 16پیسے مہنگا، نوٹیفکیشن جاری
یہ پوچھنے پر کہ ہائی کورٹ کی جانب سے معطل کیے جانے والے اس ایڈہاک ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیلوں سے کیا ڈائریکشن آئی ہے، تو انہوں نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ میں اسی ہدایت کے ساتھ کیس کو ریمانڈ کیا تھا کہ اسے جلد از جلد فیصلہ کیا جائے، اس کے علاوہ وہاں سے کوئی دوسری ہدایت نہیں تھی جبکہ ہائی کورٹ کا سسپنشن آرڈر اپنی جگہ بحال رہا ہے۔
متاثرہ یا ریگولر ہونے والے ملازمین کی تعداد:
اس ایکٹ کے تحت ریگولر ہونے والے ملازمین کی تعداد کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ گریڈ ایک (اسکیل ایک) کا معاملہ نہیں ہے کیونکہ گریڈ ایک کے لیے ایک الگ سے ایکٹ بنایا گیا تھا جو اس پٹیشن میں چیلنج نہیں ہے۔ اس کے علاوہ گریڈ 17 تک کے جو ایڈہاک ملازمین تھے جنہیں اس ایکٹ کے تحت ریگولر کیا گیا تھا، انہیں پٹیشن کے ذریعے چیلنج کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اندازاً چار سے چھ ہزار کے درمیان ایسے ملازمین تھے جنہیں اس ایکٹ کے تحت ریگولر کیا گیا تھا، اور وہ اس پٹیشن میں بطورِ کونسل پیش ہو رہے ہیں۔
ایڈہاک ریگولرائزیشن ایکٹ 2026ء،ہائی کورٹ آزاد کشمیر نے فریقین سے جواب طلب کر لیا۔ تفصیلات جانئے اس رپورٹ میں۔ https://t.co/ilIXooUaRM
— Kashmir Digital (@KashmirDigital1) October 28, 2026




