کوشش کیے بغیر ورزش کیسے کی جا سکتی ہے؟ اہم طبی انکشافات

موجودہ دور میں انسان کا بیشتر وقت ایک ہی جگہ بیٹھے بیٹھے گزر جاتا ہے۔ صبح دفتر میں میز پر گھنٹوں کام کرنا، پھر گاڑی کا سفر اور گھر پہنچ کر صوفے پر دراز ہو جانا معمول بن چکا ہے۔ دن کے اختتام پر جب رات کے کھانے کا وقت آتا ہے تو انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اس نے سارا دن جسم کو حرکت دینے کے لیے کوئی وقت نہیں نکالا۔ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی مختلف سائنسی تحقیقات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ غیر فعال یا ساکن طرزِ زندگی انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے اور یہ کئی سنگین امراض کو دعوت دیتا ہے۔   

اتفاقی ورزش اور این ای اے ٹی (NEAT) کا مفہوم:

چونکہ مصروف ترین روزمرہ روٹین کی وجہ سے باقاعدہ ورزش کے لیے وقت نکالنا اکثر لوگوں کے لیے ناممکن سا ہو جاتا ہے، اس لیے ماہرین ’اتفاقی ورزش‘ پر زور دیتے ہیں۔ روزمرہ کی ایسی جسمانی سرگرمیاں جو ارادہ کیے بغیر سر انجام پاتی ہیں، انسان کو دل کی خطرناک بیماریوں اور قبل از وقت موت کے خطرات سے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ اس قسم کی حرکات کو دورانِ میٹنگ، ہوائی سفر کے دوران یا یہاں تک کہ کوئی کتاب یا مضمون پڑھتے ہوئے بھی باآسانی کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ورزش سے دل پر کیا اثرات پڑتے ہیں؟تحقیق میں حیران انکشافات

اس قدرتی عمل کو طبی اصطلاح میں ’نان ایکسرسائز ایکٹیویٹی تھرموجینیسیس‘ یعنی (NEAT) کہا جاتا ہے۔ نیوزی لینڈ کی آکلینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ریسرچ فیلو اننتھا نارائنن کی تحقیق کے مطابق، اس سے مراد جسم کی وہ تمام توانائی ہے جو سونے، کھانے یا کسی باقاعدہ ورزش کے علاوہ روزمرہ کے کاموں کے دوران صرف ہوتی ہے۔

جسم کو متحرک رکھنے کے سادہ اور آسان ذرائع

بیٹھے رہنے کے دورانیے کو کم کرنے کے لیے جو بھی قدم اٹھایا جائے، وہ مجموعی جسمانی تندروستی کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ اتفاقی ورزش اتنی آسان ہو سکتی ہے جتنا کہ کرسی پر بیٹھے بیٹھے پاؤں ہلانا یا گھر کے برتن دھونا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم کی پوزیشن تبدیل کرتے رہنا، کندھوں کو گول گھمانا یا پیروں کے جوڑوں کو موڑنا جیسی معمولی حرکات بھی باقاعدہ ورزش کے زمرے میں آتی ہیں اور صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہیں۔