مظفر آباد (کشمیر ڈیجیٹل) کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے گزشتہ پانچ سے چھ ماہ کے دوران احتجاج، مظاہروں، یومِ سیاہ اور تالہ بندی کے باعث آزاد کشمیر میں سیاحت کا پورا سیزن ضائع اور برباد ہو گیا ہے۔ اس صورتحال پر مظفر آباد کے مقامی شہریوں کے ساتھ ساتھ دیارِ غیر میں مقیم اوورسیز کشمیریوں نے بھی شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسی ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ پوری ریاست کا مجموعی اور ناقابلِ تلافی معاشی نقصان ہے، کیونکہ چند لوگوں نے پورے آزاد کشمیر کو یرغمال بنا کر رکھ دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جس وقت اس کمیٹی نے اپنا احتجاج شروع کیا، ٹھیک اسی وقت آزاد کشمیر میں سیاحت کا سیزن اپنے عروج اور پیک پر تھا۔ اس دوران یومِ تاسیس کے موقع پر کالعدم ایکشن کمیٹی کی خاموشی اور ان کی تالہ بندی کی پالیسی پر شہریوں نے شدید سوالات اٹھائے ہیں۔ شارجہ میں پل کی تعمیر کے منصوبے پر کوسٹنگ کے لیے کام کرنے والے ایک کشمیری شہری نے بتایا کہ وہاں کی دنیا بھی اس صورتحال سے متاثر اور غمزدہ ہے کہ چند لوگوں نے انتشار پھیلا کر کشمیر کا کتنا بڑا نقصان کیا ہے۔
نیلم ویلی اور سیاحتی انڈسٹری کو تاریخی معاشی دھچکا:
مقامی شہریوں اور شاہدین کے مطابق اس سال سیاحت کا کاروبار بالکل ختم ہو کر رہ گیا ہے، جو سیاح یہاں آتے تھے وہ یکسر بند ہو چکے ہیں اور تمام تر سڑکیں سنسان پڑی ہوئی ہیں۔ وادی نیلم میں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں سیاح آمد و رفت کرتے تھے اور ان سے حاصل ہونے والا زرِ مبادلہ ریاست میں مقیم تمام سٹیزنز اور شہریوں تک پہنچتا تھا، نہ کہ صرف کسی ایک نیلم ہوٹل یا فردِ واحد تک۔
سیاحت کی اس مکمل بندش کے باعث نیلم ویلی اور ریاست کے دیگر حصوں کو جو بڑا معاشی نقصان پہنچا ہے، اسے دوبارہ ریکور کرنا خاصا مشکل اور دشوار عمل ہے۔ سیاحتی سرگرمیاں معطل ہونے کے باعث نہ صرف ریاست کا زرِ مبادلہ ڈوبا ہے بلکہ خطے کا سارا معاشی پہیہ جام ہو کر رہ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں دھرنوں اور احتجاجی سرگرمیوں پر شہریوں اور رہنمائوں کی شدید تشویش، فوری کارروائی کا مطالبہ
ٹرانسپورٹ کی معطلی، بے روزگاری اور کاروبار کی تباہی:
احتجاج کے باعث ریاست بھر میں ٹرانسپورٹ کا نظام مسلسل بند رہا، جس سے ٹرانسپورٹرز اور عام شہریوں کا ذاتی اور بھاری مالی لاس ہوا۔ اس صورتحال نے آزاد کشمیر میں بے روزگاری کی ایک شدید لہر پیدا کر دی ہے، جس میں وادی نیلم سمیت متعدد علاقوں کے لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔
معاشی بحران کے باعث کاروبار کرنے والوں اور ہوٹل مالکان کو اپنی دکانوں و ہوٹلوں کے رینٹ اور کرائے اپنی جیب اور پلے سے دینے پڑے، جبکہ حالات سے تنگ آ کر کئی افراد کو اپنے بنے بنائے کاروبار ہمیشہ کے لیے چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ آزاد حکومت، اداروں اور خاص طور پر عام عوام کو اس بات کا کامل اندازہ ہے کہ اس دھرنے نے عوام کے لیے کس قدر شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
نئی حکومت، افتخار گیلانی کا ترقیاتی جذبہ اور چیلنجز:
شہریوں نے نشاندہی کی کہ ہماری جو نئی گورنمنٹ آئی ہے اور افتخار گیلانی صاحب ہیں، وہ بہت بڑا جذبہ رکھنے والی شخصیت ہیں جو کشمیر کے اندر ترقی کروانا اور ریاست کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ تاہم، ان تمام تر ترقیاتی عزائم اور منصوبوں کو اس احتجاج اور بندش کی وجہ سے معطل اور بند کر کے رکھا گیا ہے، اور چند لوگوں نے ریاست کو یرغمال بنا کر عوام اور حکومت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔
دوسری جانب، دونوں پارٹ ڈویژن، تحصیل حویلی، ضلع حویلی اور ضلع بھمبر جیسے بڑے یونٹس میں معمولات اور کاروبار اپنے معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔ عوام اس کالعدم کمیٹی کے ساتھ نہیں نکل رہی، بلکہ صرف مٹھی بھر عناصر نے ریاست کے امن کو مغوی بنا رکھا ہے اور وہ دھرنے کا دائرہ کار بڑھا رہے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت سے فوری اقدام کا مطالبہ:
حکومت، وزراء اور وزیراعظم اپنی طرف سے اس معاملے کو یکسو کرنے کی مسلسل کوششیں کر رہے ہیں اور ان کے جائز مطالبات ماننے اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں، مگر احتجاجی عناصر کسی بھی بات پر تیار نہیں ہو رہے۔
اس تمام صورتحال کے پیشِ نظر شہریوں کا کہنا ہے کہ چار سے پانچ ماہ کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد اب قانون ساز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کو ٹیک اوور کریں، ان کے اینگل کو سمجھیں، اور ریاست کو یرغمال بنانے والے ان چند عناصر کے خلاف فوری اور سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔




