اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)کالعدم ایکشن کمیٹی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سینئر صحافی مجتبیٰ بٹ کا مزید کہنا تھاکہ دھرنا کدھر ہے ؟
عیدگاہ گرائونڈ میں100، دوسو بندہ اکھٹا کرکے خطاب کردیں تو سمجھ لیں کہ یہ دھرنا ہے ۔ان خیالات کا اظہارمعروف اینکر اور سینئر صحافی مجتبیٰ بٹ نے کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں اینکر سعدیہ شریف راٹھور سے گفتگو کرتے ہوئےکیا۔
سینئرصحافی کا کہنا تھا کہ عوامی حقوق کیلئے دھرنا ، احتجاج تو کسی بھی قوم کا حق ہے مگر دھرنا اور احتجاج کی آڑ میں جب کوئی جتھا اپنے مفادات اور اپنی ذات کی پروموشن شروع کردے تو وہ دھرنا نہیں رہتا۔
انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کا آج یوم تاسیس تھا کیا کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے ایک ریلی بھی نکالی گئی ہے حالانکہ آج پورے آزادکشمیر میں یوم تاسیس کے موقع پر قوم نے بھرپور کردار ادا کیا اور پورے آزادکشمیر میں سمینارز ، تقریبات منعقد کی گئیں ہیں ۔
سینئر صحافی مجتبیٰ بٹ کا مزید کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کا احتجاج اور دھرنا آٹے ، چینی ،بجلی کی سبسڈی کے مطالبات سے شروع ہوا تھا اور آزادکشمیر میں انتشار تک پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے 99فیصد مطالبات تسلیم کرلئے ہیں اس میں آزادکشمیر اور وفاقی حکومت بھی شامل تھی ۔ جبکہ آئینی معاملات جن میں مہاجرین جموں وکشمیر کی 12نشستیں شامل ہیں وہ کسی صورت ختم نہیں ہوسکتیں نہ ہی ان پر کوئی بات ہوسکتی ہے
مزید یہ بھی پڑھیں:فاروق حیدراقتدار سے آئوٹ کیا ہوئے اپنے حواس ہی کھو بیٹھے،سینئر صحافی مجتبیٰ بٹ
کیونکہ یہ ایک آئینی او ر بین الاقوامی معاملہ ہے اگر ہم مہاجرین کی نشستیں ختم کرتے ہیں تو پھر اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو کمزور کرنے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزادکشمیر میں اب انتشاری پارٹی سے مذکرات نہیں بلکہ ان کا قلع قمع ناگزیر ہوچکا۔ راولاکوٹ میں بیٹھے عمرنذیرکشمیری، سردار امان اور خواجہ مہران کو پیغام ہے کہ وہ دھرنا ختم کریں ، ریاست کے سامنے سرینڈر کریں تو مذاکرات پر بات ہوسکتی ہےورنہ پھر کوئی مذاکرات کا سوچ رہا ہے تو یہ اس کی بھول ہے ۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں کوٹلی سے کالعدم ایکشن کمیٹی کے 8 شرپسند اسلحہ سمیت پکڑے گئے تھے جبکہ اس سے قبل ایک پوڈ کاسٹ میں کشمیری رہنما عبدالحمید لون نے انکشاف کیا تھا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کو بیرون ممالک اور بالخصوص بھارت سے فنڈنگ ہوررہی ہے۔
سینئر صحافی مجتبیٰ بٹ کا مزید کہنا تھا کہ آزادکشمیر کی عوام کالعدم ایکشن کمیٹی کے دھرنوں سے تنگ آچکے ، لوگ حکومت آزادکشمیر اور وزیراعظم پاکستان سے اپیل کررہے ہیں کہ ان سے ان کی جان چھڑائی جائے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزادکشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے انتشار کی وجہ سے ہرقسم کا کاروبار بند، لوگوں کی روزمرہ کی زندگی متاثر، طلباوطالبات تعلیم سے محروم ہوچکے ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ انہیں فوری طور پر نکرے لگائیں اور عوام کو ریلیف فراہم کریں ۔
سینئر صحافی مجتبیٰ بٹ کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کو آزادکشمیر سے فارغ کیا جائے ۔ اب بہت ہوچکا ، قانون نافذ کرنیوالے اداروں کیخلاف کالعدم ایکشن کمیٹی کے جتھوں نے کارروائیاں کیں، حملے کئے ، کئی اہلکار زخمی اور شہید ہوگئے ۔
انہوں نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے جتھے گھروں پر بینکر بنا کر ان پر حملے کررہے ہیں ، جو کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کیا گیا ہے اس کا واحد حل مذاکرات نہیں بلکہ گرینڈ آپریشن ہے ۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ ماہ سے ان لوگوںنے راولاکوٹ کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔ عوام ان کیساتھ نہیں رہی، عوامی پذیرائی ختم ہوچکی ہے ۔ اب ان کا آخری ٹائم چل رہا ہے ۔
سینئر صحافی مجتبیٰ بٹ نے انکشاف کیا کہ آئند چند دنوں میں آزادکشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی نا م کی کوئی تنظیم باقی نہیں رہے گی۔
ایک سوال کے جواب میں سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر آکر گالم گلوچ کرنا اور دھمکیاں دینا کالعدم ایکشن کمیٹی کا وطیرہ بن چکا ہے ۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کے کارندے آزادکشمیر کا مثبت چہرہ خراب کررہے ہیں ۔ سوشل میڈیا دنیا بھر میں دکھا جارہا ہے ۔ اگر کسی کے پاس لاجک نہیں ہے تو وہ گالم گلوچ پراتر آتا ہے جو سوشل لائف سے ہٹ کر ہے ۔




