مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر 3 روزہ اہم سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے کئی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مئی 2025 کی بدترین شکست کے بعد بھارت ایک اور مہم جوئی کی تیاریاں کرنے لگا، بھارتی تجزیہ کار
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چودھری اور وفاقی وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔
مالدیپ کے صدارتی دفتر کے بیان کے مطابق صدر معیزو کو ایئرپورٹ پر شاندار استقبال دیا گیا اور 21توپوں کی سلامی پیش کی گئی۔
یہ 11 سال بعد کسی مالدیپ کے صدر کا پہلا دورہ پاکستان ہے اور یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سنہ 1966 میں سفارتی تعلقات کے قیام کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔
صدر معیزو کے ہمراہ خاتون اول ساجدہ محمد اور کابینہ کے وزرا اور سینئر حکام پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد بھی پاکستان آیا ہے۔ انہیں بدھ کے روز وزیراعظم ہاؤس میں باضابطہ استقبال دیا جائے گا۔
اس سے قبل مالدیپ کے وزیر خارجہ، کابینہ کے وزرا اور سینئر حکام کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے تھے جن کا استقبال ترجمان دفتر خارجہ، ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا اور سارک مالدیپ میں پاکستان کے ہائی کمشنر اور پاکستان میں مالدیپ کے ہائی کمشنر نے کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق دورے کے دوران صدر معیزو صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے جو ان کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کریں گے۔
وہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ محدود اور وفود کی سطح پر مذاکرات بھی کریں گے جس میں دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور تعاون بڑھانے کے مواقع پر بات ہوگی۔
مذاکرات میں تجارت، سرمایہ کاری، صحت، تعلیم، سیاحت، زراعت، دفاع، میری ٹائم سکیورٹی، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی رابطوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ دونوں رہنما باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:کولمبیا :غیرقانونی سونے کی کان منہدم، 14 افراد ہلاک، 7 زخمی
دورے کے دوران ایک بزنس فورم کا انعقاد بھی کیا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے درمیان رابطے مضبوط ہوں اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ عقیدے، باہمی احترام اور دیرینہ خیر سگالی پر مبنی گرمجوش اور خوشگوار تعلقات ہیں اور یہ دورہ دونوں ممالک کے عوام کے باہمی فائدے کے لیے دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا عکاس ہے۔




