اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) سابق چیئرمین پی ڈی اے مرکزی ن لیگ ارشد نیازی نے کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں سعدیہ راٹھور سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ راولاکوٹ کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں ، شہر چار ماہ سے مکمل بند ہے ، بچے سکول نہیں جاسکتے ، مریض اپنے علاج کیلئے ہسپتال تک جانے سے خوفزدہ ہیں۔
سردار ارشد نیازی نے انکشاف کیا ہےکہ پونچھ ڈویژن میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے نقاب پوش کارندوں نے ناکے لگا رکھے ہیں ۔ان کارندوں نے بہت سارے لوگوں کو اغوا ء کررکھا ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بھی اہلکار اب تک مغوی ہیں۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کے 50،60نقاب پوشوں کی اغواء کی کوشش ناکام بنادی،ارشد نیازی کا انکشاف
سردار ارشدنیازی نے مزید انکشاف کیا کہ پچاس ساٹھ نقاب پوشوں نے مجھے اغواء کرنے کی کوشش کی مگر میرے لوگوں نے فوری ایکشن لیتے ہوئے اغواء کی کوشش ناکام بنادی ۔
انہوں نے کہا کہ راولاکوٹ میں نظام زندگی متاثر ہے ، ڈپٹی کمشنر سید ممتاز کاظمی نے میڈیکل کالج کی شفٹ کرنے کی سازش ناکام بنادی۔
کمانڈنٹ راولاکوٹ کا شکریہ جنہوں نے ڈپٹی کمشنر کی تجویز پر بچوں کی تعلیم کا فوری بندوبست کیا اور میڈیکل کالج کے طلباء وطالبات کی سی ایم ایچ میں تدریس کا کام شروع کروایا ۔
سردار ارشد نیازی کا مزید کہنا تھا کہ خواجہ مہران بتائے کہ میرپو رچل رہا ہے، الیکشن ہوگئے، ڈڈیال سے اظہر صادق ممبر اسمبلی بن گئے ، آپ نے وہاں تو کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی، بچوں کی سکولنگ بھی ہورہی ہے ، اور آپ راولاکوٹ میں کیوں بیٹھے ہیں؟؟
انہوں نے سردار امان سے سوال کیا کہ وہ بتائیں کہ پلندری ،سدھنوتی شہر کھلا ہے ، ٹرانسپورٹ چل رہی ہے ، کاروبار جاری ہے ۔
بچے سکول جارہے ہیں ۔ انٹری پوائنٹس کھلے ہیں ۔ بھمبر ، برنالہ ، کوٹلی ، سہنسہ ، نکیال میں الیکشن ہوگئے تو آپ راولاکوٹ میں بیٹھے کیا کررہے ہیں۔
انہوںنےسردار عمر نذیر کشمیری سے پوچھا کہ آپ جب تقریر کرکے جاتے ہیں تو پیچھے مسلح افراد سکیورٹی فورسیز کو دھمکیاں دیتے ہیں ، حملے کرتےہیں۔
آپ تو کہتے ہیں کہ ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں تو پھر یہ کون لوگ ہیں جو قومی اداروں پر چڑھائی کی دھمکیاں دیتے پھرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کی وجہ سے راولاکوٹ سے ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ رالاکوٹ کے لوگ سفید پوش اور پسا ہوا طبقہ ہے۔
ہمارے بچوں کو سکول نہیں جانے دیا جاتا، اگر ہم سکولوں میں بچوں کو بھیجیں گے تو انہیں اغواء کرنے کے خدشات موجود ہیں۔
سردار ارشد نیازی نے انکشاف کیا کہ کشمیری سیاستدان بالخصوص پونچھ کے سیاستدان راولاکوٹ میں داخل نہیں ہوسکتے ۔یہ سیاستدان جنہیں عوام نے اسمبلی میں پہنچایا وہ اپنا بھرپور کردار ادا کرنے سے قاصر رہے۔
ان سیاستدانوں کی غفلت کے باعث آج پونچھ کے شہری بے یارومددگار کالعدم ایکشن کمیٹی کے رحم وکرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو جو راولاکوٹ کےخلاف سازش کررہے ہیں ان کو ڈنکے کی چوٹ پر بے نقاب کرونگا، اور بھارتی بیانیہ کو لے کر آزادکشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کا راستہ روکوں گا۔۔
ایک سوال کے جواب میں ارشد نیازی کا کہنا تھا کہ میں مولانا فضل الرحمن کا دل سے احترام کرتا تھا اور میں سمجھتا تھا کہ وہ علمائے کرام میں رول ماڈل ہیں۔ مگر ان کے پاک فوج کیخلاف بیانیہ پر دلی دکھ ہوا۔
میں مولانا فضل الرحمن کو کہوں گا کہ وہ اپنے بچوں کو کسی بریگیڈ یئر لیول پر ہی فوج میں بھیجیں اور سیاچن یا بلوچستان بھیجیں دیکھتا ہوں کہ وہ تنخواہ کے عوض اپنی جانوں کے نذرانے وطن کیلئے پیش کررہے ہیں یا پچاس ہزار کیلئے؟؟
فضل الرحمن کو پاک فوج کیخلاف ایسی نازیبا گفتگو سے گریز کرنا چاہیے تھا ، پاک فوج ہماری سرحدوں کی محافظ اور پاکستانی اور کشمیری قوم کا فخر ہے اس پر کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں کرسکتے ۔
قومی سلامتی اداروں ، این سی سی اے کو مولانا فضل الرحمن کے بیان پر فوری نوٹس لے کر ان کیخلاف کارروائی کرنی چاہیے ۔




