لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں آزادکشمیر کے عوام کیلئے 15کلینک آن ویلز عطیہ کرنے، صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے پیوٹ پروگرام، گرین ٹریکٹر اسکیم کے مختلف مراحل، اپنی چھت اپنا گھر پروگرام اور متعدد دیگر منصوبوں کی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں جام شہادت نوش کرنے والے افسران اور جوانوں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی، جبکہ سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی خوشدامن کے ایصال ثواب کے لیے بھی دعائے مغفرت کی گئی۔
سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے اجلاس میں پنجاب کا پیوٹ پروگرام پیش کیا، جس کے تحت صوبے میں مجموعی طور پر 1,995 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس میں 1,089 ارب روپے سرکاری اور 906 ارب روپے نجی سرمایہ کاری شامل ہے۔ پروگرام سے ایک لاکھ 62 ہزار سے زائد افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب گرین کریڈٹ پروگرام: ماحول دوست اقدامات پر شہریوں کو ہزاروں روپے آفر
پروگرام میں صنعتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی، صنعتی کلسٹرز، موجودہ صنعتوں کی سہولت کاری، مسابقتی برآمدات، ویلیو چین میں تبدیلی، زراعت اور لائیوسٹاک میں جدید مشینری کے استعمال، سرکاری و نجی شراکت داری، شمسی توانائی کی تنصیب اور مقامی سطح پر ہنرمندی کے فروغ کے منصوبے شامل ہیں۔
پیوٹ پروگرام کے تحت ای بز، ای کامرس، گارمنٹس، پلگ اینڈ پلے صنعتی سہولتوں، چمڑے اور جوتوں کی صنعت، کھیلوں کے سامان کی جانچ اور سرٹیفکیشن، کٹلری، ہاتھ سے بنے اوزار اور سرامکس کے شعبوں کو بھی ترقی دی جائے گی۔ پنکھوں کی صنعت کے لیے میٹریل ٹیسٹنگ لیبارٹری قائم کرنے کی تجویز بھی پروگرام کا حصہ ہے۔
باغبانی اور پھولوں کی کاشت سے وابستہ شعبوں کے لیے برآمدی مالی معاونت، آلو اور آم کی ویلیو ایڈیشن، زرعی پراسیسنگ پارکس، گندم کی قدر میں اضافے، گوشت اور دودھ کی ویلیو چین، سیاحت اور آبی زراعت کے منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں۔
سرگودھا، خانیوال، اوکاڑہ اور بھکر میں زرعی پراسیسنگ پارکس قائم کیے جائیں گے، جبکہ مقامی اور عالمی ضروریات کے مطابق ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
کابینہ نے پنجاب کے 20 اضلاع میں باغبانی اتھارٹیز کے قیام کی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہر ضلع میں پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی قائم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب گرین ٹریکٹر پروگرام کے ہائی پاور مرحلے پنجم کے لیے سبسڈی کی منظوری دی گئی۔ اسکیم کے لیے اڑھائی لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہونے کا بتایا گیا، جبکہ رجسٹریشن پر عائد تاخیر کی فیس معاف کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کی منظوری دے دی، جس کے تحت 60 ارب روپے کے ذریعے بینک آف پنجاب 40 ہزار قرضے فراہم کرے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پروگرام میں اسٹامپ ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔
وزیراعلیٰ نے اسپتالوں میں طبی آلات کو فعال رکھنے کے لیے ضروری واجبات فوری ادا کرنے کی ہدایت کی۔ کابینہ نے محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے ضروری واجبات کے لیے فنڈز کی منظوری بھی دی۔
اجلاس میں پنجاب رنگ روڈ اتھارٹی کے تحت ٹریفک جرمانوں میں ترامیم منظور کی گئیں۔ تیز رفتاری، اوورلوڈنگ، پیدل کراسنگ اور دیگر خلاف ورزیوں پر جرمانوں میں کئی گنا اضافے کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے حکومت آزاد جموں و کشمیر کو 15 کلینک آن ویلز ،گلگت بلتستان کو 6 اور گاڑیاں عطیہ کرنے کی منظوری دی۔
یہ بھی پڑھیں:دہشتگردوں کے حامیوں کی حمایت،فضل الرحمان سے یہ توقع نہیں تھی، مریم نواز
اجلاس میں ستھرا پنجاب اتھارٹی اور ایجنسی کی آسامیوں پر بھرتیوں کے لیے پابندی میں نرمی، پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی 17 خالی آسامیوں پر بھرتیوں اور گلوبل انویسٹمنٹ گیٹ وے آف پنجاب ونگ کے لیے خصوصی بھرتی کمیٹی کے قیام کی منظوری بھی دی گئی۔
یاد رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے الیکشن سے قبل دورہ آزادکشمیر پر 15کلینک آن ویلز فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا، اعلان پر عملدرآمد کرتے ہوئے کلینک آن ویلز اور ڈاکٹر آزادکشمیر روانہ کئے گئے تھے۔




