انسانی حقوق کے نام پر آزاد جموں و کشمیر سے متعلق پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دینے کیلئے مبینہ منصوبے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ منصوبے میں بھارتی ہائی کمیشن لندن، بھارتی نشریاتی ادارے ٹائمز ناؤ سے وابستہ ایک صحافی اور برطانیہ میں رجسٹرڈ جموں کشمیر ہیومن رائٹس آبزرویٹری ( JKHRO) کے نام شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جون 2026 میں لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے عہدیدار پرمود کھیم چندانی اور بھارتی نیوز چینل ٹائمز ناؤ کےمنیجنگ ایڈیٹر زکا جیکب کے درمیان ایک مبینہ ملاقات ہوئی، جس میں آزاد جموں و کشمیر میں سرگرمیاں منظم کرنے کیلئے ایک نئی تنظیم کے قیام اور اسے وسیع میڈیا کوریج فراہم کرنے کے معاملات زیرِ بحث آئے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی اور کالعدم ایکشن کمیٹی ایک ہی سکے کے دو رخ: کالعدم کمیٹی کے احتجاجی بیانیے کو عوام نے مسترد کردیا
رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مجوزہ منصوبے پرعملدرآمد کیلئے3 پاکستانی شہریوں، اظہر احمد، یاسر شفقات، ڈاکٹراشتیاق خالق کا انتخاب کیا گیا۔ ان افراد کو جموں کشمیر کالعدم ایکشن کمیٹی ( جے اے اے سی)سے وابستہ بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ان کا کردار مجوزہ تنظیم کے قیام اور اس کی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے سے متعلق تھا۔رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ جموں کشمیر ہیومن رائٹس آبزرویٹری (JKHRO) اسی منصوبے کے تحت قائم کی گئی۔
تنظیم کے حوالے سے ایک اہم نکتہ اس کی برطانیہ میں کمپنی کے طور پر رجسٹریشن ہے، جس کی تاریخ 30 جولائی 2026 بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پرمود کھیم چندانی کا نام بھی مذکورہ کمپنی کے Person with Significant Control (PSC) کے طور پر درج ہے۔
اگر برطانیہ کے سرکاری کمپنی رجسٹر سے اس تفصیل کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ کمپنی کے انتظامی ڈھانچے اور اس میں متعلقہ فرد کے کردار کو سمجھنے کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔
تاہم، PSC کے طور پر اندراج بذاتِ خود کسی مبینہ خفیہ آپریشن یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔
اس معاملے میں بنیادی سوالات یہ ہیں کہ آیا مذکورہ ملاقات ہوئی، آیا تنظیم کے قیام اور میڈیا مہم کے حوالے سے کوئی مربوط منصوبہ بنایا گیا، اور نامزد افراد کے درمیان کیا تعلق اور کردار تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی ہرزہ سرائی ،کئی سوالات اٹھنے لگے
ان سوالات کے جوابات کیلئے متعلقہ دستاویزات، کمپنی رجسٹریشن ریکارڈ اور دیگر قابلِ اعتماد شواہد کی آزادانہ جانچ ضروری ہے۔




