چوہدری سعید پر الزامات کی بوچھاڑ، مخلصی کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والوں پر اہم سوالات اٹھا دیے گئے

آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے اندرونی اختلافات اور تنظیمی کشیدگی میں روز بروز شدید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ممبرانِ کشمیر کونسل چوہدری سعید اور راجہ مشتاق منہاس کی مشاورت سے الیکشن میں بغاوت کے الزام کے تحت جن رہنماؤں کو پارٹی سے برطرف کیا گیا تھا، اب ان برطرف رہنماؤں کے حامی اور نظریاتی کارکن علانیہ طور پر میدان میں آ گئے ہیں۔   

مختلف سیاسی حلقوں اور ناراض رہنماؤں کے حامیوں کی جانب سے چوہدری سعید کی کارکردگی اور پارٹی سے مخلصی کے دعوؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں مخلصی کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والوں کے سامنے 4 بنیادی اور تیکھے سوالات رکھے گئے ہیں۔

ناراض اراکین اور پارلیمانی بورڈ سے متعلق سوالات اٹھائے گئے  جن کے مطابق، عوام اور حامی یہ بنیادی سوال پوچھ رہے ہیں کہ اگر اعجاز رضا، ملک سہیل، تسلیم انجم، نعمت شہزاد اور مزمل گجر کی وجہ سے چوہدری سعید الیکشن ہارے ہیں، تو انہوں نے الیکشن سے قبل ان ناراض اراکین کو راضی کرنے کی کوشش کیوں نہ کی؟

یہ بھی پڑھیں: راجہ فاروق حیدر کشمیر کونسل کے مخالف کیوں؟ کیا ذاتی مفادات جڑے ہیں؟ اندرونی کہانی

اسی طرح الیکشن سے قبل پارٹی ٹکٹ کے انٹرویو کے دوران پارلیمانی بورڈ کے سامنے ان تمام تحفظات اور درپیش مسائل کو بر وقت اجاگر کیوں نہیں کیا گیا؟

ووٹ بینک اور ہوم پولنگ اسٹیشنز پر لیڈ میں کمی کے الزاماتناراض دھڑے اور عوام کی طرف سے مزید سوال اٹھایا گیا ہے کہ الیکشن سے قبل ان تمام تحفظات کا کوئی مناسب سدِ باب یا پھر متبادل ووٹ بینک کا بروقت انتظام کیوں نہیں کیا گیا؟

اس کے علاوہ، ہوم پولنگ اسٹیشنز (1-F) جہاں گزشتہ الیکشن میں 800 سے زائد کی بھاری لیڈ حاصل ہوئی تھی، وہاں اس مرتبہ انہی پولنگ اسٹیشنز پر لیڈ کم ہو کر سابقہ لیڈ کی بھی نصف (آدھی) کیوں اور کیسے ہو گئی؟

چوہدری سعید کی پارٹی کے ساتھ مخلصی اور وفاداری کا اندازہ انہی 4 بنیادی سوالات کے جوابات سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہ تمام سوالات اور پوسٹرسوشل میڈیا پوسٹ سے لیے  گئے ہیں۔