سیاسی قیادت کا مل بیٹھنا آئین کے تحفظ اور مسائل کے حل کے لیے ہے: راجہ محمد فاروق حیدر

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے واضح کیا ہے کہ سیاسی قیادت کا آپس میں مل بیٹھنا کسی طور حکومت کے خلاف محاذ بنانے کے لیے نہیں بلکہ تقسیمِ کشمیر کے خلاف قومی مؤقف کے احیاء، ریاستی تشخص، عبوری آئین 1974 اور داخلی خودمختاری کے تحفظ سمیت آزاد کشمیر کو درپیش سنگین مسائل، بالخصوص پونچھ کے معاملات کے پرامن حل کے لیے ہے۔

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے اپنے اہم بیان میں کہا کہ ریاستی قیادت نے حکومت کو ان تمام امور پر ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ سیاسی قیادت کی ملاقاتوں کا مقصد حکومت کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ معاملات کو جمہوری انداز میں حل کرنا اور عبوری آئین کے تحفظ کے لیے حکومت کی بھرپور معاونت کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم پسِ پردہ یا کھل کر کی جانے والی ایسی تمام مثبت کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

سازشی عناصر اور حکومت کی استقامت:

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے واضح کیا کہ سازشی عناصر ان سیاسی ملاقاتوں کو دانستہ طور پر حکومت کے خلاف قرار دے کر حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان سازشیوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ان کی اپنی جماعت کی حکومت ہے اور اس حوالے سے کسی کو بھی کسی قسم کی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے قومی امور پر مشترکہ مؤقف اور حمایت ان کی سیاسی بلوغت، آزاد کشمیر کی درخشندہ روایات اور قومی سوچ کی روشن آئینہ دار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر،وزیراعظم کے امیدوار ناکامی کے بعد کشمیر کونسل میں جاگرے،فاروق حیدر

صدر و وزیراعظم کی کوششیں اور حمایت کی یقین دہانی:

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر حکومت کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جب بھی درپیش مسائل کے حل کے لیے سیاسی قیادت یکجا ہوتی ہے تو سازشی عناصر کو تکلیف پہنچتی ہے اور وہ پروپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیاسی قیادت نے حکومت کو درپیش حالات سے نکلنے، معاملات کو پرامن طریقے سے حل کرنے اور عبوری آئین کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاملات بہتری کی طرف جائیں گے کیونکہ صدرِ ریاست اور وزیراعظم دونوں خلوصِ نیت سے کوششیں کر رہے ہیں اور تمام سیاسی قیادت انہیں اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاتی ہے۔