ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاملے پر 7 روزہ منصوبے کی پیشکش ایک مرتبہ پھر سامنے رکھ دی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اس حوالے سے ٹھوس تجویز قطر کے ذریعے پہنچائی گئی تھی جبکہ اب اگلا قدم اُٹھانے کا فیصلہ امریکا کو کرنا ہے۔
ایران کی نئی پیشکش
عباس عراقچی نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے معاملے پر سات روزہ منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی امریکی انخلا سے مشروط، ایرانی مسلح افواج کا فیصلہ
ان کے مطابق یہ تجویز قطر کے ذریعے متعلقہ فریق تک پہنچائی گئی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اب یہ امریکا پر منحصر ہے کہ وہ اس پیشکش پر کیا ردعمل دیتا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور توانائی کی ترسیل کیلئے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، اس لیے اس کے کھلنے یا بند رہنے سے عالمی توانائی کی منڈیوں اور تجارت پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
خودمختاری کے دفاع کا مؤقف
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا ملک اپنے عوام، قومی خودمختاری اور جائز مفادات کے تحفظ کیلئے اقدامات کرتا رہا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران نے کبھی اپنے پڑوسی ممالک کو نشانہ نہیں بنایا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے ایران میں امریکی فوج اتارنے کا امکان مسترد کر دیا
عباس عراقچی کے مطابق ایران کی کارروائیوں کا ہدف خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور فوجی تنصیبات رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنصیبات بدقسمتی سے ایران کے پڑوس میں قائم ہیں۔
فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں
عراقچی کے بیان میں آبنائے ہرمز کے معاملے پر سفارتی پیش رفت کی گنجائش کا اشارہ دیا گیا ہے، تاہم سات روزہ منصوبے کی تفصیلات اور اس پر امریکی ردعمل کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔




