آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی امریکی انخلا سے مشروط، ایرانی مسلح افواج کا فیصلہ

اسلام آباد : عالمی معیشت اور عالمی بحری تجارت کی انتہائی اہم اور حساس شاہراہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے لیے طریقہ کار کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جس پر ایرانی مسلح افواج نے اپنا حتمی اور واضح موقف جاری کر دیا ہے۔

ترجمان ایرانی مسلح افواج نے واضح اعلان کیا ہے کہ اس اہم ترین آبی گزرگاہ کو مکمل طور پر کھولنا خطے سے تمام امریکی افواج کے انخلا سے ہی مشروط ہو گا۔ ایرانی فوج کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اس خطے سے مکمل طور پر چلے جانے کے بعد ہی آبنائے ہرمز کی مکمل اور بحال شدہ نقل و حمل ممکن ہو سکے گی۔

امریکی انخلا کا حتمی الٹی میٹم اور علاقائی سلامتی:

ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے سوشل میڈیا کے ذریعے واشنگٹن کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر امریکہ خود اپنی مرضی سے خطے سے نہ گیا تو اسے زبردستی یہاں سے نکال باہر کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جیسے ہی امریکہ خطے کو چھوڑ کر جائے گا، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکی انخلا کے بعد خطے کے تمام ممالک آپس میں مل کر اجتماعی سلامتی کا نظام قائم کریں گے، جس کے نتیجے میں نہ صرف علاقائی امن قائم ہوگا بلکہ عالمی معیشت میں بھی واضح بہتری دیکھنے کو ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے ایران میں امریکی فوج اتارنے کا امکان مسترد کر دیا

جہاز رانی کے مالکان کے لیے خصوصی ہدایات:

ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے آبنائے ہرمز کے علاقے میں پائی جانے والی تمام تر کشیدگی اور عدم استحکام کا تمام تر ذمہ دار براہِ راست امریکہ کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پورے علاقے میں بحران اور تناؤ کی اصل وجہ صرف اور صرف امریکی فوج کی موجودگی ہے۔ ترجمان نے دنیا بھر کے بحری جہازوں کے مالکان اور کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر کے لیے ایرانی راستے استعمال کریں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی زور دیا ہے کہ تمام بحری جہاز گزرگاہ سے سفر کے دوران ایرانی مسلح افواج کے طے کردہ قوانین اور ضوابط کی مکمل پابندی کریں۔