مظفرآباد (کشمیرڈیجیٹل) مہاجرین مقبوضہ جموں کشمیر 1989 کے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں چھ فیصد کوٹے کی بحالی کیلئے آزاد جموں کشمیر سپریم کورٹ میں دائر رٹ پٹیشن کی اگلی سماعت 3 نومبر 2026ء کو ہوگی۔
مہاجرین ورکنگ کمیٹی کے سیکرٹری جنرل گوہر احمد کشمیری اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل چوہدری محمد مشتاق نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد جموں کشمیر سے بڑی اپیل کردی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر کے جنگلات خطرے میں، سرسبز درختوں کی کٹائی عروج پر
انہوں نے کہا کہ مہاجرین جموں کشمیر 1989 کے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں چھ فیصد کوٹے کو انسانی بنیادوں پر بحال کیا جائے

انہوں نے کہا کہ مہاجر خاندانوں کے نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم کئے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں چھ فیصد کوٹے کے خاتمے سے مہاجرین کے ہزاروں طلبہ اور نوجوانوں میں مایوسی اور ناامیدی بڑھ رہی ہے۔
یہ کوٹہ مہاجر خاندانوں کیلئے تعلیم اور روزگار کے حصول میں اہم سہارا تھا جس کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہاجرین کی بڑی تعداد مہاجر بستیوں اور کرائے کے مکانات میں رہائش پذیر ہے جہاں انہیں مختلف رہائشی اور تعلیمی مشکلات کا سامنا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان، موسم سرما کی پہلی برفباری، بابوسرٹاپ سیاحوں کیلئے بحال
ایسے حالات میں سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں چھ فیصد کوٹے کی بحالی سے مہاجر خاندانوں کے نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے بہتر مواقع فراہم کئے جا سکتے ہیں۔
مہاجرین ورکنگ کمیٹی کے رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ انسانی بنیادوں پر اس معاملے کا جائزہ لے گی اور مہاجرین کے تعلیمی و معاشی مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب فیصلہ صادر کرے گی۔۔




