مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل )سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے ایڈہاک ایکٹ 2026 سے متعلق دائر درخواستیں مناسب وقت میں سماعت اور فیصلے کیلئے ہائیکورٹ کو بھجوا دی ہیں۔
کشمیر ڈیجیٹل کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے سابقہ حکم کے تحت عدالتی فیصلے تک کسی بھی ملازم کو ملازمت سے فارغ نہ کرنے کی ہدایت برقرار ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:33 نئے وکلاء کوسپریم کورٹ آزاد کشمیر کے ایڈووکیٹ کے طور پر انرول کرنے کی منظوری
ایڈہاک ایکٹ 2026 کے تحت آزاد کشمیر کے مختلف محکموں میں تعینات ہزاروں جریدہ اور غیر جریدہ ملازمین، عارضی اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا گیا تھا اور ان کی سروس کو تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔
تاہم سابق حکومت کے اس اقدام کو بعد ازاں ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔درخواستوں کی سماعت کے دوران ہائیکورٹ نے ایڈہاک ایکٹ معطل کردیا تھا، جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئیں۔
سپریم کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا، تاہم ساتھ ہی حکم دیا تھا کہ عدالتی فیصلے تک کسی بھی ملازم کو ملازمت سے فارغ نہ کیا جائے۔
اب سپریم کورٹ نے ایڈہاک ایکٹ 2026 سے متعلق درخواستیں دوبارہ ہائیکورٹ کو بھجوا دی ہیں، جہاں ان کی سماعت اور فیصلے کا معاملہ مناسب وقت میں طے کیا جائے گا۔
اس پیش رفت کے بعد آزاد کشمیر کے مختلف سرکاری محکموں میں مستقل کیے گئے ہزاروں ملازمین کے مستقبل کا معاملہ ہائیکورٹ میں زیر سماعت رہے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مہاجرین ورکنگ کمیٹی کی سپریم کورٹ آزاد کشمیر سے انسانی بنیادوں پر 6 فیصد کوٹہ بحال کرنے کی اپیل
کیس کے حتمی فیصلے سے ایڈہاک ایکٹ کے تحت ملازمین کی مستقلی اور ان کی ملازمتوں کے قانونی تحفظ سے متعلق صورت حال واضح ہونے کی توقع ہے۔




