واشنگٹن(کشمیر ڈیجیٹل)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے معاملے میں امریکا شاید حد سے زیادہ آگے بڑھ گیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو ایرانی حکام کی شناخت میں مشکلات کا سامنا ہے جن کے ساتھ جنگ کے خاتمے یا مذاکرات کیلئے بات چیت کی جا سکے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے ساتھ کھڑی ’پراسرار خاتون‘ روبوٹ ہے یا انسان؟ حقیقت سامنے آ گئی!
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور سفارتی رابطوں کے ذریعے کسی ممکنہ پیش رفت کی کوششیں جاری ہیں۔
ٹرمپ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے بعد امریکا کو مذاکرات کیلئے مناسب ایرانی حکام کی شناخت میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی خواہش پوری نہ ہوسکی، امن کا نوبیل انعام خاتون وکیل کے نام
دستیاب رپورٹ میں صدر ٹرمپ کی جانب سے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دی گئیں کہ کن عہدیداروں سے رابطے کی کوشش کی جا رہی ہے یا امریکی کارروائیوں کے مستقبل کے بارے میں کیا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے سے متعلق ٹرمپ کے اس بیان کو جنگی حکمتِ عملی اور مذاکراتی امکانات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس سے کسی نئی پالیسی یا جنگ کے خاتمے کے فیصلے کی تصدیق نہیں ہوتی۔




