انڈیا میں ہزاروں اپوزیشن حامیوں نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ دھوکہ دہی کے خلاف احتجاج اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے نئی دہلی میں انڈین سپریم کورٹ تک مارچ کیا ہے۔
پیر کو ہونے والا ’مارچ فار ڈیموکریسی‘ حالیہ مظاہروں کی ایک کڑی تھا، جس کے دوران دارالحکومت میں ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ اس سے قبل ہفتے کے آخر میں ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا تھا۔
ووٹر فہرستوں میں تبدیلی اور اپوزیشن کے الزامات
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی جس میں اس عمل کو چیلنج کیا گیا جس سے ووٹر فہرستوں سے کروڑوں نام خارج کیے گئے تھے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس نظرثانی سے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
دوسری جانب انڈین الیکشن کمیشن اور حکمراں جماعت بی جے پی اس الزام کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں انتخابی اصلاحات اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر مظاہرے
پولیس کی جانب سے حراست اور مارچ کی دعوت
کئی ہفتوں سے پولیس کی جانب سے امن و امان کا حوالہ دیتے ہوئے احتجاج کی درخواستیں مسترد کی جا رہی تھیں۔ ہفتے کے آخر میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے احتجاج کرنے کی کوشش کے نتیجے میں دلی میں ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا تھا۔
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے پیر کے روز منعقد ہونے والے اس مارچ میں شرکت کے لیے تمام اپوزیشن جماعتوں، سول سوسائٹی کے گروپوں اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے تمام افراد کو شرکت کی کھلی دعوت دی تھی۔
چیف جسٹس کو خط اور عدالتی موقف
ایک پریس کانفرنس میں راہل گاندھی نے وہ خط شیئر کیا جو کہ انھوں نے اور کانگریس صدر ملیکارجن کھرگے نے چیف جسٹس سوریا کانت کو لکھا تھا، جس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طرزِ عمل سے متعلق اپنے شدید تحفظات بیان کیے گئے تھے۔
اپنی درخواست دائر کرنے کے بعد چیف جسٹس سوریا کانت نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی عدالت کے سامنے ہے اور اس لیے زیرِ سماعت ہے، یعنی وہ اس بارے میں فی الحال بات نہیں کر سکتے۔




