ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے انکشاف کیا ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے سات گھنٹے طویل ملاقات میں ملک کے انتظامی مسائل اور حکومتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ہے۔
بی بی سی کے مطابق ایرانی صدر پزیشکیان نے یہ بات جامعات کے نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران سے تیل تجارت کا الزام : ممبئی کی 2 کمپنیوں،5 بھارتی شہریوں پر پابندیاں عائد
مسعود پزشکیان نے بتایا کہ ایران کا صدر منتخب ہونے کے بعد گزشتہ سات ماہ میں ان کی مجتبیٰ خامنہ ای سے دو مرتبہ ملاقات ہوئی ہے۔
ایرانی صدر نے ملک کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں وسائل یا صلاحیتوں کی کمی بنیادی مسئلہ نہیں بلکہ اہل افراد کے انتخاب، بہتر انتظام اور کیے گئے فیصلوں پر موثر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے بعض سرکاری اداروں اور کمپنیوں کے انتظامی طریقۂ کار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ سرکاری کمپنیوں میں جاری معاملات کو درست معنوں میں انتظام نہیں کہا جاسکتا جس سے نظامِ حکمرانی میں اصلاحات کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔
انہوں نے اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تقرریوں کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بعض اوقات کسی موزوں امیدوار کو ذمہ داری سونپنا چاہتی ہے لیکن بعد میں عدلیہ یا دیگر اداروں کے اعتراضات کے باعث تقرری کا عمل متاثر ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا: ٹرمپ
واضح رہے کہ 29 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے لیکن وہ تاحال کسی بھی مقام پر منظرعام پر نہیں آئے نہ ہی کوئی ویڈیو یا آڈیو پیغام آیا ہے۔ ان کے بیانات سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔




