برٹش خاتون یاسمین کے الزامات بے بنیاد ، انکوائری میں سب سامنے آجائےگا، پروفیسر عامر اقبال

میرپور(کشمیر ڈیجیٹل )پروفیسر عامر اقبال نے کہا کہ برطانوی نژاد کشمیری خاتون یاسمین کے ان پر لگائے گئے الزامات من گھڑت اور جھوٹ کا پلندہ ہیں ۔انھوں نے نہ تو خاتون اور ان کے اہلخانہ کو ہراسمنٹ کی ہے اور نہ مکان کا نقصان کیا ۔

سارے معاملے کی انکوائری جاری ہے مکان 3 فروری کو تھانہ تھوتھال پولیس کی موجودگی میں خالی کر دیا تھا اب دو ماہ بعد سوچی سمجھی سازش کے تحت میری کردار کشی کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ فیضان رمضان نے مجھے فون کال کرکے کہا کہ میں اور طرح کا بندہ ہوں بھڑکے والے بندوں کو جانتے نہیں اس لئے مکان خالی کریں وگرنہ اچھا نہیں ہو گا جبکہ پریس کانفرنس والی رات سے قبل مجھے نغمان عارف کا فون آیا کہ آپ مقامی ہوٹل پر آئیں پیسے دیں تو پریس کانفرنس بھی منسوخ کر دینگے اور آپ کی جان چھوٹ جائیگی یہ بلیک میلنگ ہے میں نے ان کو انکار کر دیا تھا جب تمام واقعے کی انکوائری ہو گی تو تمام تر واقعات کی تصدیق ہو جائے گی ۔

کشمیر پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر عامر اقبال کا کہنا تھا کہ مکان ایک پراپرٹی ڈیلر کے ذریعے کرائے پر لیا تھا اور اس کی اسی ہزار سکیورٹی بھی دی تھی مالک مکان کو شروع دن سے باجی کہا آج بھی باجی کہتا ہوں۔

ان کے مسیجز میرے پاس محفوظ ہیں جن میں انھوں نے ہماری تعریف کی اور کہا آپ سے اچھے کرایہ دار نہیں ملے اس سے پہلے بعد ازاں ایک ماہ کا کرایہ لیٹ ہونے پر انھوں نے مجھ سے پھڈا بنا لیااور مکان خالی کرنے کیلئے تین دفعہ پولیس بلا لی ۔

تھانہ تھوتھال پولیس کی موجودگی میں تین فروری کو مکان خالی کر دیا تھا وہاں کا میٹر خراب تھا جس کو ایک ماہ وہ خود ٹھیک کروا کر دیتی رہیں اور ان کے جانے کے بعد میٹر خراب محکمہ برقیات والے اتار کر لے گئے اور مجھے ایوریج بل دیتے رہے جس پر برقیات دفاتر کے دھکے کھائے اور بڑی مشکل سے میٹر تبدیل کروایا جو آج بھی باجی یاسمین کے نام ہی ہے تو میں نے کیسے نوسربازی کی؟

سوئی گیس میٹر کا بھی بدنام کیا گیا وہ بھی مالک مکان کے نام ہے کہا گیا کہ میں نے غلط بیانی کی کمشنر آفس میں بھی تمام انکوائری جاری رہی میں نے پیسے لینے ہیں یہ ایک منظم اور گھناؤنی سازش ہے جس میں بعض کردار ملوث ہیںجو ایسے من گھڑت واقعات کو ہوا دیکر غلط امیج بناتے ہیں تاکہ اورسیز متنفر ہوں اور یہاں نہ آئیں ۔
دو ماہ بعد مکان خالی ہونے کے بعد من گھڑت کردار کشی کی گئی اور اداروں کو بھی بدنام کیا گیا ہے کمشنر میرپور اس واقعہ کی انکوائری کروائیں اور مجھے اذیت سے نجات دلائیں۔
ه

Scroll to Top