مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) وزیراعظم آزادکشمیر افتخار گیلانی سے چیف ویپ اپوزیشن کمیٹی چوہدری قاسم مجید کی قیادت میں اپوزیشن وفد نے اہم ملاقات کی۔
ملاقات میں ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال، عوامی مسائل اور جاری ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز کی فراہمی، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، ایجوکیشن پیکیج، سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں تبدیلیوں، تبادلوں اور ریاست کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اپوزیشن وفد نے عوامی مفاد کے منصوبوں کو جاری رکھنے اور ترقیاتی سرگرمیوں میں رکاوٹیں دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:زرداری، شہباز اہم ملاقات،خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے پراتفاق
ملاقات کے دوران حکومت اور اپوزیشن نے عوامی معاملات پر باہمی مشاورت اور مل کر چلنے پر اتفاق کیا۔
ملاقات کو آزادکشمیر کی سیاست میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں میں بہتری کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آزادکشمیر میں آئندہ انتخابات کے تناظر میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی میں کمی کے امکانات بھی سامنے آئے ہیں۔
تاہم ملاقات میں ہونے والی گفتگو کا مرکزی نکتہ عوامی مسائل اور ریاستی مفادات سے متعلق معاملات رہے۔
اپوزیشن کمیٹی کے وفد نے وزیراعظم آزادکشمیر کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریاست میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کرنے یا ایجوکیشن پیکیج ختم کرنے کی کسی بھی کوشش کی مزاحمت کی جائے گی۔
وفد کا مؤقف تھا کہ عوامی فلاح و بہبود سے متعلق منصوبوں کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے اور ایسے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھا جانا چاہیے۔
ملاقات میں اے ڈی پی میں مجوزہ یا زیرِ غور تبدیلیوں کے اثرات، ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز اور سڑکوں سمیت بنیادی سہولیات سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر: فورتھ شیڈول کی نئی فہرست جاری، کوکب راٹھور کا نام خارج، 21 نئے افراد شامل
اس موقع پر تبادلوں کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی، بالخصوص ایسے فیصلوں سے متعلق تحفظات کا ذکر کیا گیا جنہیں اپوزیشن انتقامی کارروائیوں سے تعبیر کرتی ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان عوامی معاملات پر مل کر چلنے کے اتفاق کو اس تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود ریاستی ترقی، عوامی سہولیات اور جاری منصوبوں کے تحفظ کیلئے مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
تاہم ملاقات کے بعد کسی باقاعدہ مشترکہ اعلامیے، عملی اقدامات یا فیصلوں کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔وزیراعظم افتخار گیلانی سے ملاقات کرنیوالے اپوزیشن کمیٹی کے وفد میں چیف ویپ چوہدری قاسم مجید کے علاوہ دیوان چغتائی، ظفر اقبال ملک، یاسر سلطان اور ضیا القمر شامل تھے۔
ملاقات میں زیرِ بحث آنے والے معاملات آئندہ دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے باہمی رابطوں اور ریاستی سطح پر ترقیاتی و عوامی امور کے حوالے سے اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ملاقات میں طے پانے والے اتفاقِ رائے کو عملی اقدامات میں کس حد تک تبدیل کیا جاتا ہے اور ترقیاتی منصوبوں، ایجوکیشن پیکیج اور دیگر عوامی معاملات پر فریقین کے درمیان تعاون کس شکل میں آگے بڑھتا ہے۔




