4 اکتوبر کی کال عوامی مفاد کے منافی ، احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے:میر شریف

مظفرآباد میں مرکزی ایوان صحافت میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق ایڈیشنل جنرل سیکرٹری یوتھ ونگ آزاد کشمیر میر شریف نے کہا ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے شروع ہونے والی تحریک کے بنیادی مطالبات پر پوری قوم نے ساتھ دیا ہے، تاہم احتجاج کا دائرہ عوامی مسائل سے آگے بڑھنے کے بعد اس کے اثرات براہِ راست عام شہری، طلباء، مزدور، تاجر اور دیہی علاقوں کے عوام پر پڑ رہے ہیں۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ خواجہ عمران، حماد میر صدر یوتھ و دیگر افراد بھی موجود تھے۔

مفاد عامہ اور احتجاجی کال کی مخالفت

میر شریف کا کہنا تھا کہ چار اکتوبر کو دی جانے والی کال کو عوامی مفاد کے پیش نظر مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور احتجاج کے بجائے مذاکرات، مشاورت اور آئینی و جمہوری راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں موجودہ صورتحال ہر باشعور شہری کے لیے باعث تشویش ہے، اور ماضی میں بھی مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران انہوں نے سیاسی و معاملات میں کردار ادا کیا ہے، اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ مسائل کا حل تصادم، طویل دھرنوں اور نظام زندگی معطل کرنے میں نہیں بلکہ مذاکرات میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ریاست مخالف احتجاج، کالعدم ایکشن کمیٹی عوامی اعتماد کھو چکی: شاہنواز اعوان

عوامی مسائل اور حکومت کے مثبت اقدامات

انہوں نے مزید کہا کہ جب تحریک براہ راست عوامی مسائل تک محدود تھی تو معاشرے کے ہر طبقے نے اس کا ساتھ دیا اور بجلی، آٹے سمیت دیگر بنیادی مسائل پر آواز اٹھائی گئی جس سے کئی معاملات میں پیش رفت ہوئی۔ حکومت کی جانب سے کفایت شعاری اور اخراجات میں کمی کے اقدامات بھی سامنے آئے ہیں جنہیں مثبت سمت میں قدم قرار دیا جا سکتا ہے، جبکہ صحت کارڈ سمیت دیگر عوامی مسائل پر بھی ماضی میں آواز اٹھائی گئی ہے۔

زندگی کے مختلف شعبوں پر منفی اثرات:

موجودہ احتجاجی طریقہ کار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئے روز دھرنے، انٹرنیٹ کی بندش اور آمدورفت میں رکاوٹ کے باعث طلباء کا تعلیمی مستقبل اور نوجوان نسل شدید متاثر ہو رہی ہے، جبکہ مزدور کا روزگار، کاروباری سرگرمیاں اور دیہی علاقوں کے باسی بھی مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے سردیوں کے موسم کی آمد اور سیاحت کے سیزن کے متاثر ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس طویل کشیدگی سے معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے اور عوام کو مزید مشکلات سے بچانے کے لیے معمولات زندگی کی بحالی انتہائی ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: ٹنڈالی میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پرعوام کا شدید احتجاج اور دھرنا، جہلم ویلی روڈ بند

آئینی فورمز اور حکومت کا سو روزہ پلان:

سابق ایڈیشنل جنرل سیکرٹری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ایک منتخب اسمبلی موجود ہے جہاں عوام کے ووٹوں سے نمائندے پہنچے ہیں، اس لیے اصلاحات کے خواہشمند افراد کو انتخابی عمل کا حصہ بن کر قانون سازی کے ذریعے تبدیلی لانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صدر یا وزیراعظم کا ہر احتجاجی مقام پر جانا ہی مذاکرات کا واحد طریقہ نہیں ہے بلکہ حکومت اور متعلقہ فریقین کے درمیان بات چیت کے لیے دیگر آئینی اور انتظامی فورمز بھی موجود ہیں۔ انہوں نے حکومت کے سو روزہ پلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعمیرات، سڑکوں، محکمہ جات، صحت اور تعلیم میں اصلاحات شامل ہیں، اس لیے حکومت کو کم از کم سو روز کا وقت دیا جائے تاکہ وہ اپنے اعلان کردہ پروگرام پر عملدرآمد کر سکے۔