اوپن اے آئی کا نیا اے آئی ایجنٹ ’’ڈاٹس‘‘ متعارف، پرائیویسی کے لیے اہم اقدامات

اوپن اے آئی کی جانب سے اپنا جدید مصنوعی ذہانت کا ایجنٹ ’’ڈاٹس‘‘ پیش کر دیا گیا ہے، جسے صارف کی ہدایات پر مختلف امور خودکار انداز میں انجام دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ادارے نے اس نئے اے آئی ایجنٹ ’’ڈاٹس‘‘ کا باضابطہ اعلان اپنی سالانہ ڈویلپر ڈے کانفرنس کے موقع پر کیا۔ اوپن اے آئی کے مطابق یہ ایک ایسا جدید اے آئی ایجنٹ ہے جو ہر وقت صارف کو دستیاب رہے گا اور تحریری فیڈ بیک یا وائس کمانڈ کے ذریعے موصول ہونے والی ہدایات پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کر سکے گا۔

ڈاٹس کا طریقۂ کار اور فعالیت:

کمپنی کا کہنا ہے کہ ڈاٹس بنیادی طور پر ایک کلاؤڈ کمپیوٹر کی طرح کام سر انجام دیتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صارف کے دیے گئے فیڈ بیک سے سیکھتے ہوئے اس کی ترجیحات، روزمرہ کام کرنے کے انداز اور مخصوص ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔

اس جدید ایجنٹ کو 4 ہزار سے زائد مختلف ایپس کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے، جس کی بدولت یہ صارف کے روزمرہ کے مختلف کاموں میں بھرپور مدد فراہم کرتا ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق صارفین اس کو ویب، موبائل اور ڈیسک ٹاپ سمیت متعدد پلیٹ فارمز پر باآسانی استعمال کر سکیں گے۔ اس کے ذریعے صارف اپنے کاموں کے لیے مخصوص ہدایات جاری کر سکتا ہے جبکہ اے آئی ایجنٹ بالکل انہی ہدایات کے مطابق عملی کام انجام دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی کے ایجنٹس کی اقوام متحدہ کے ڈیٹا تک رسائی کی کوشش، 16 ہزار سے زائد درخواستیں ارسال

پرائیویسی اور تحفظ کے انتظامات:

اوپن اے آئی نے اس نئے ایجنٹ میں صارف کی پرائیویسی اور ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اور اضافی اقدامات کیے ہیں۔ صارف اس کی سرگرمیوں اور رسائی کے لیے خود مخصوص حدود طے کر سکتا ہے، اس کے علاوہ خودکار طور پر انجام دیے جانے والے بعض اہم فیصلوں میں صارف خود بھی شامل ہو سکتا ہے۔

کمپنی کی وضاحت کے مطابق ہر ڈاٹس ایجنٹ اپنے مخصوص کلاؤڈ کمپیوٹر کے ماحول کے اندر رہ کر کام کرتا ہے۔ معاونت فراہم کرنے والی ویب سائٹس پر لاگ ان یا سائن ان ہونے کے لیے استعمال کیے جانے والے پاس ورڈز کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے، تاہم کمپنی کا اصرار ہے کہ ان پاس ورڈز کی تمام تفصیلات براہِ راست اے آئی ماڈل تک نہیں پہنچتی ہیں۔

روایتی چیٹ بوٹس سے آگے کا قدم:

اس نئے اے آئی ایجنٹ کے اجراء کے ساتھ ہی اوپن اے آئی نے محض روایتی سوالات کے جواب دینے والے چیٹ بوٹس کی حد سے آگے بڑھ کر ایسے جدید اے آئی سسٹمز کی طرف باقاعدہ قدم رکھ دیا ہے جو صرف گفتگو کرنے کے بجائے صارف کی جانب سے عملی طور پر تمام کام خود انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔